اکبر اللہ آبادی

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)

04 December 2025

22سپیکرز
209لسنرز

سپیکرز

حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام

آہ جو دل سے نکالی جائے گی

آہ جو دل سے نکالی جائے گی کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی اس نزاکت پر یہ شمشیر جفا آپ سے کیوں کر سنبھالی جائے گی کیا غم دنیا کا ڈر مجھ رند کو اور اک بوتل چڑھا لی جائے گی شیخ کی دعوت میں مے کا کام کیا احتیاطاً کچھ منگا لی جائے گی یاد ابرو میں ہے اکبرؔ محو یوں کب تری یہ کج خیالی جائے گی

— اکبر اللہ آبادی