اکبر اللہ آبادی

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)

04 December 2025

22سپیکرز
209لسنرز

سپیکرز

عروج فیاض کا پیش کردہ کلام

حال دل میں سنا نہیں سکتا

حال دل میں سنا نہیں سکتا لفظ معنیٰ کو پا نہیں سکتا عشق نازک مزاج ہے بے حد عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا ہوش عارف کی ہے یہی پہچان کہ خودی میں سما نہیں سکتا پونچھ سکتا ہے ہم نشیں آنسو داغ دل کو مٹا نہیں سکتا مجھ کو حیرت ہے اس کی قدرت پر الم اس کو گھٹا نہیں سکتا

— اکبر اللہ آبادی