اکبر اللہ آبادی

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)

04 December 2025

22سپیکرز
209لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقی ہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں اس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوث سایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجت غم کا مجھے یہ ضعف ہے بیمار نہیں ہوں وہ گل ہوں خزاں نے جسے برباد کیا ہے الجھوں کسی دامن سے میں وہ خار نہیں ہوں یا رب مجھے محفوظ رکھ اس بت کے ستم سے میں اس کی عنایت کا طلب گار نہیں ہوں گو دعوی تقوی نہیں درگاہ خدا میں بت جس سے ہوں خوش ایسا گنہ گار نہیں ہوں افسردگی و ضعف کی کچھ حد نہیں اکبرؔ کافر کے مقابل میں بھی دیں دار نہیں ہوں

— اکبر اللہ آبادی

فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں

فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں معرفت خالق کی عالم میں بہت دشوار ہے شہر تن میں جب کہ خود اپنا پتا ملتا نہیں غافلوں کے لطف کو کافی ہے دنیاوی خوشی عاقلوں کو بے غم عقبیٰ مزا ملتا نہیں کشتئ دل کی الٰہی بحر ہستی میں ہو خیر ناخدا ملتے ہیں لیکن با خدا ملتا نہیں غافلوں کو کیا سناؤں داستان عشق یار سننے والے ملتے ہیں درد آشنا ملتا نہیں زندگانی کا مزا ملتا تھا جن کی بزم میں ان کی قبروں کا بھی اب مجھ کو پتا ملتا نہیں صرف ظاہر ہو گیا سرمایۂ زیب و صفا کیا تعجب ہے جو باطن با صفا ملتا نہیں پختہ طبعوں پر حوادث کا نہیں ہوتا اثر کوہساروں میں نشان نقش پا ملتا نہیں شیخ صاحب برہمن سے لاکھ برتیں دوستی بے بھجن گائے تو مندر سے ٹکا ملتا نہیں جس پہ دل آیا ہے وہ شیریں ادا ملتا نہیں زندگی ہے تلخ جینے کا مزا ملتا نہیں لوگ کہتے ہیں کہ بد نامی سے بچنا چاہئے کہہ دو بے اس کے جوانی کا مزا ملتا نہیں اہل ظاہر جس قدر چاہیں کریں بحث و جدال میں یہ سمجھا ہوں خودی میں تو خدا ملتا نہیں چل بسے وہ دن کہ یاروں سے بھری تھی انجمن ہائے افسوس آج صورت آشنا ملتا نہیں منزل عشق و توکل منزل اعزاز ہے شاہ سب بستے ہیں یاں کوئی گدا ملتا نہیں بار تکلیفوں کا مجھ پر بار احساں سے ہے سہل شکر کی جا ہے اگر حاجت روا ملتا نہیں چاندنی راتیں بہار اپنی دکھاتی ہیں تو کیا بے ترے مجھ کو تو لطف اے مہ لقا ملتا نہیں معنیٔ دل کا کرے اظہار اکبرؔ کس طرح لفظ موزوں بہر کشف مدعا ملتا نہیں

— اکبر اللہ آبادی

جو ناصح مرے آگے بکنے لگا

جو ناصح مرے آگے بکنے لگا میں کیا کرتا منہ اس کا تکنے لگا محبت کا تم سے اثر کیا کہوں نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا بدن چھو گیا آگ سی لگ اٹھی نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا رقیبوں نے پہلو دبایا تو چپ میں بیٹھا تو ظالم سرکنے لگا جو محفل میں اکبرؔ نے کھولی زباں گلستاں میں بلبل چہکنے لگا

— اکبر اللہ آبادی