سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقی ہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں اس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوث سایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجت غم کا مجھے یہ ضعف ہے بیمار نہیں ہوں وہ گل ہوں خزاں نے جسے برباد کیا ہے الجھوں کسی دامن سے میں وہ خار نہیں ہوں یا رب مجھے محفوظ رکھ اس بت کے ستم سے میں اس کی عنایت کا طلب گار نہیں ہوں گو دعوی تقوی نہیں درگاہ خدا میں بت جس سے ہوں خوش ایسا گنہ گار نہیں ہوں افسردگی و ضعف کی کچھ حد نہیں اکبرؔ کافر کے مقابل میں بھی دیں دار نہیں ہوں
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں معرفت خالق کی عالم میں بہت دشوار ہے شہر تن میں جب کہ خود اپنا پتا ملتا نہیں غافلوں کے لطف کو کافی ہے دنیاوی خوشی عاقلوں کو بے غم عقبیٰ مزا ملتا نہیں کشتئ دل کی الٰہی بحر ہستی میں ہو خیر ناخدا ملتے ہیں لیکن با خدا ملتا نہیں غافلوں کو کیا سناؤں داستان عشق یار سننے والے ملتے ہیں درد آشنا ملتا نہیں زندگانی کا مزا ملتا تھا جن کی بزم میں ان کی قبروں کا بھی اب مجھ کو پتا ملتا نہیں صرف ظاہر ہو گیا سرمایۂ زیب و صفا کیا تعجب ہے جو باطن با صفا ملتا نہیں پختہ طبعوں پر حوادث کا نہیں ہوتا اثر کوہساروں میں نشان نقش پا ملتا نہیں شیخ صاحب برہمن سے لاکھ برتیں دوستی بے بھجن گائے تو مندر سے ٹکا ملتا نہیں جس پہ دل آیا ہے وہ شیریں ادا ملتا نہیں زندگی ہے تلخ جینے کا مزا ملتا نہیں لوگ کہتے ہیں کہ بد نامی سے بچنا چاہئے کہہ دو بے اس کے جوانی کا مزا ملتا نہیں اہل ظاہر جس قدر چاہیں کریں بحث و جدال میں یہ سمجھا ہوں خودی میں تو خدا ملتا نہیں چل بسے وہ دن کہ یاروں سے بھری تھی انجمن ہائے افسوس آج صورت آشنا ملتا نہیں منزل عشق و توکل منزل اعزاز ہے شاہ سب بستے ہیں یاں کوئی گدا ملتا نہیں بار تکلیفوں کا مجھ پر بار احساں سے ہے سہل شکر کی جا ہے اگر حاجت روا ملتا نہیں چاندنی راتیں بہار اپنی دکھاتی ہیں تو کیا بے ترے مجھ کو تو لطف اے مہ لقا ملتا نہیں معنیٔ دل کا کرے اظہار اکبرؔ کس طرح لفظ موزوں بہر کشف مدعا ملتا نہیں
جو ناصح مرے آگے بکنے لگا
جو ناصح مرے آگے بکنے لگا میں کیا کرتا منہ اس کا تکنے لگا محبت کا تم سے اثر کیا کہوں نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا بدن چھو گیا آگ سی لگ اٹھی نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا رقیبوں نے پہلو دبایا تو چپ میں بیٹھا تو ظالم سرکنے لگا جو محفل میں اکبرؔ نے کھولی زباں گلستاں میں بلبل چہکنے لگا