سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا
غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیا بلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا اللہ بچائے مرض عشق سے دل کو سنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا میں نزع میں ہوں آئیں تو احسان ہے ان کا لیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشا نہیں ہوتا ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو
ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو جان دینے کو ہوں موجود کوئی بات تو ہو دل بھی حاضر سر تسلیم بھی خم کو موجود کوئی مرکز ہو کوئی قبلۂ حاجات تو ہو دل تو بے چین ہے اظہار ارادت کے لیے کسی جانب سے کچھ اظہار کرامات تو ہو دل کشا بادۂ صافی کا کسے ذوق نہیں باطن افروز کوئی پیر خرابات تو ہو گفتنی ہے دل پر درد کا قصہ لیکن کس سے کہیے کوئی مستفسر حالات تو ہو داستان غم دل کون کہے کون سنے بزم میں موقع اظہار خیالات تو ہو وعدے بھی یاد دلاتے ہیں گلے بھی ہیں بہت وہ دکھائی بھی تو دیں ان سے ملاقات تو ہو کوئی واعظ نہیں فطرت سے بلاغت میں سوا مگر انسان میں کچھ فہم اشارات تو ہو