اکبر اللہ آبادی

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)

04 December 2025

22سپیکرز
209لسنرز

سپیکرز

مرزا جواد کا پیش کردہ کلام

یار نے کچھ خبر نہ لی، دل نے جگر نے کیا کیا

یار نے کچھ خبر نہ لی، دل نے جگر نے کیا کیا نالۂ شب سے کیا ہوا، آہِ سحر نے کیا کیا دونوں کو پا کے بے خبر، کر گئے کام حسن و عشق دل نے ہمارے کیا کیا، ان کی نظر نے کیا کیا صاحبِ تاج و بخت بھی، موت سے یاں نہ بچ سکے جاہ و حشم سے کیا ہوا، کثرتِ زر نے کیا کیا کھل گیا سب پہ حالِ دل، ہنستے ہیں دوست برملا ضبط کیا نہ رازِ عشق، دیدۂ تر نے کیا کیا اکبرِؔ خستہ دل کا حال، قابلِ رحم ہو گیا اس سے سلوک، کیا کہوں، تیری نظر نے کیا کیا

— اکبر اللہ آبادی