سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
الطاف خان
انتظار حسین
انورجمال
ایم سعید
حماد ابراہیم
خواجہ اشرف
رابعہ
راجا اکرام قمر
ریبل
سجاد رضا
سید جینٹلمین
طیورفتم
عروج فیاض
کراؤن
محسن زبیر
مرزا جواد
ملک
نایاب
نگاہ بسمل
نین سکھ
یادرفتگان
رابعہ کا پیش کردہ کلام
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے ڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں اس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے اس مے سے نہیں مطلب دل جس سے ہے بیگانہ مقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی ہے اے شوق وہی مے پی اے ہوش ذرا سو جا مہمان نظر اس دم ایک برق تجلی ہے واں دل میں کہ صدمے دو یاں جی میں کہ سب سہہ لو ان کا بھی عجب دل ہے میرا بھی عجب جی ہے ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الٰہی سے ہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے سورج میں لگے دھبا فطرت کے کرشمے ہیں بت ہم کو کہیں کافر اللہ کی مرضی ہے تعلیم کا شور ایسا تہذیب کا غل اتنا برکت جو نہیں ہوتی نیت کی خرابی ہے سچ کہتے ہیں شیخ اکبرؔ ہے طاعت حق لازم ہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے