سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوں
دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوں سینے پہ نَفَس بار ہے، معلُوم نہیں کیوں اِقرارِ وَفا یار نے ہر اِک سے کِیا ہے مُجھ سے ہی بس اِنکار ہے، معلُوم نہیں کیوں ہنگامۂ محشر کا تو مقصوُد ہے معلُوم دہلی میں یہ دربار ہے، معلوم نہیں کیوں جِس سے دِلِ رنجُور کو ،پہونچی ہے اذِیّت پِھر اُس کا طَلَب گار ہے، معلُوم نہیں کیوں اے گُل! تِرا نظّارہ دِل آویز ہے، لیکن پہلُو میں تِرے خار ہے،معلُوم نہیں کیوں افلاس میں مستی تو مُجھے خوش نہیں آتی ساقی کو یہ اِسرار ہے، معلُوم نہیں کیوں انداز تو عُشّاق کےپائے نہیں جاتے اکبؔر جگر افگار ہے، معلُوم نہیں کیوں جینے پہ تو، جان اہلِ جہاں دیتے ہیں اکبؔر! پِھر یہ تُجھے دُشوار ہے ، معلُوم نہیں کیوں
بوسۂ زُلفِ سِیاہ فام مِلے گا کہ نہیں
بَوسۂ زُلفِ سِیاہ فام مِلے گا کہ نہیں دِل کا سودا ہے، مُجھے دام مِلے گا کہ نہیں خط میں کیا لکِھّا ہے، قاصد کو خبر کیا اِس کی پُوچھتا ہے، مُجھے اِنعام مِلے گا کہ نہیں مَیں تِری مست نَظر کا ہُوں دُعاگو، ساقی صدقہ آنکھوں کا کوئی جام مِلے گا کہ نہیں قبر پر فاتحہ پڑھنے کو نہ آئیں گے وہ کیا جان دینے کا کُچھ اِنعام مِلے گا کہ نہیں بُو کِسی سمت سے آتی نہیں ہمدردی کی مُجھ کو، مُجھ سا کوئی ناکام مِلے گا کہ نہیں جُستجُو ہی میں وہ لذّت ہے کہ، اللہ اللہ کیوں مَیں پُوچُھوں، وہ دِلآرام مِلے گا کہ نہیں آرزُو مرگ کی تم کرتے ہو اکبرؔ، لیکن! سوچ لَو، قبر میں آرام مِلے گا کہ نہیں