سپیکرز
ریبل کا پیش کردہ کلام
طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتا
طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتا گئے فرہاد و مجنوں اب کسی سے دل نہیں ملتا بھری ہے انجمن لیکن کسی سے دل نہیں ملتا ہمیں میں آ گیا کچھ نقص یا کامل نہیں ملتا پرانی روشنی میں اور نئی میں فرق اتنا ہے اسے کشتی نہیں ملتی اسے ساحل نہیں ملتا پہنچنا داد کو مظلوم کا مشکل ہی ہوتا ہے کبھی قاضی نہیں ملتے کبھی قاتل نہیں ملتا حریفوں پر خزانے ہیں کھلے یاں ہجر گیسو ہے وہاں پہ بل ہے اور یاں سانپ کا بھی بل نہیں ملتا یہ حسن و عشق ہی کا کام ہے شبہ کریں کس پر مزاج ان کا نہیں ملتا ہمارا دل نہیں ملتا چھپا ہے سینہ و رخ دل ستاں ہاتھوں سے کروٹ میں مجھے سوتے میں بھی وہ حسن سے غافل نہیں ملتا حواس و ہوش گم ہیں بحر عرفان الٰہی میں یہی دریا ہے جس میں موج کو ساحل نہیں ملتا کتاب دل مجھے کافی ہے اکبرؔ درس حکمت کو میں اسپنسر سے مستغنی ہوں مجھ سے مل نہیں ملتا
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا یہ طرز احسان کرنے کا تمہیں کو زیب دیتا ہے مرض میں مبتلا کر کے مریضوں کو دوا دینا بلائیں لیتے ہیں ان کی ہم ان پر جان دیتے ہیں یہ سودا دید کے قابل ہے کیا لینا ہے کیا دینا خدا کی یاد میں محویت دل بادشاہی ہے مگر آساں نہیں ہے ساری دنیا کو بھلا دینا
اس میں عکس آپ کا اتاریں گے
اس میں عکس آپ کا اتاریں گے دل کو اپنے یوں ہیں سنواریں گے ہم سے کرتی ہے یہ بہت غمزے ہم بھی دنیا پہ لات ماریں گے رزق مقسوم ہی ملےگا اسے کوئی دنیا میں دوڑے یا رینگے عشق کہتا ہے لطف ہوں گے بڑے ہجر کہتا ہے جان ماریں گے دل کی افسردگی نہ جائے گی ہاں وہ چاہیں گے تو ابھاریں گے دل نہ دوں گا میں آپ کو ہرگز مفت میں آپ جان ماریں گے پند اکبرؔ کو دیں گے کیا ناصح گل کو کیا باغباں سنواریں گے