اکبر اللہ آبادی

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)

04 December 2025

22سپیکرز
209لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے ارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے خاطر سے تری یاد کو ٹلنے نہیں دیتے سچ ہے کہ ہمیں دل کو سنبھلنے نہیں دیتے کس ناز سے کہتے ہیں وہ جھنجھلا کے شب وصل تم تو ہمیں کروٹ بھی بدلنے نہیں دیتے پروانوں نے فانوس کو دیکھا تو یہ بولے کیوں ہم کو جلاتے ہو کہ جلنے نہیں دیتے حیران ہوں کس طرح کروں عرض تمنا دشمن کو تو پہلو سے وہ ٹلنے نہیں دیتے دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے گرمئ محبت میں وہ ہیں آہ سے مانع پنکھا نفس سرد کا جھلنے نہیں دیتے

— اکبر اللہ آبادی