اکبر اللہ آبادی

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)

04 December 2025

22سپیکرز
209لسنرز

سپیکرز

سجاد رضا کا پیش کردہ کلام

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں امیدیں اس قدر ٹوٹیں کہ اب پیدا نہیں ہوتیں مری بیتابیاں بھی جزو ہیں اک میری ہستی کی یہ ظاہر ہے کہ موجیں خارج از دریا نہیں ہوتیں وہی پریاں ہیں اب بھی راجا اندر کے اکھاڑے میں مگر شہزادۂ گلفام پر شیدا نہیں ہوتیں یہاں کی عورتوں کو علم کی پروا نہیں بے شک مگر یہ شوہروں سے اپنے بے پروا نہیں ہوتیں تعلق دل کا کیا باقی میں رکھوں بزم دنیا سے وہ دل کش صورتیں اب انجمن آرا نہیں ہوتیں ہوا ہوں اس قدر افسردہ رنگ باغ ہستی سے ہوائیں فصل گل کی بھی نشاط افزا نہیں ہوتیں قضا کے سامنے بے کار ہوتے ہیں حواس اکبرؔ کھلی ہوتی ہیں گو آنکھیں مگر بینا نہیں ہوتیں

— اکبر اللہ آبادی