اکبر اللہ آبادی

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)

04 December 2025

22سپیکرز
209لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

غریب خانے میں للہ دو گھڑی بیٹھو

غریب خانے میں للہ دو گھڑی بیٹھو بہت دنوں میں تم آئے ہو اس گلی کی طرف ذرا سی دیر جو ہو جائے گی تو کیا ہوگا گھڑی گھڑی نہ اٹھاؤ نظر گھڑی کی طرف جو گھر میں پوچھے کوئی خوف کیا ہے کہہ دینا چلے گئے تھے ٹہلتے ہوئے کسی کی طرف

— اکبر اللہ آبادی

ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے

ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے منہ سے جو نہیں نکلی ہے اب ہاں نہ کریں گے کیوں زلف کا بوسہ مجھے لینے نہیں دیتے کہتے ہیں کہ واللہ پریشاں نہ کریں گے ہے ذہن میں اک بات تمہارے متعلق خلوت میں جو پوچھو گے تو پنہاں نہ کریں گے واعظ تو بناتے ہیں مسلمان کو کافر افسوس یہ کافر کو مسلماں نہ کریں گے کیوں شکر گزاری کا مجھے شوق ہے اتنا سنتا ہوں وہ مجھ پر کوئی احساں نہ کریں گے دیوانہ نہ سمجھے ہمیں وہ سمجھے شرابی اب چاک کبھی جیب و گریباں نہ کریں گے وہ جانتے ہیں غیر مرے گھر میں ہے مہماں آئیں گے تو مجھ پر کوئی احساں نہ کریں گے

— اکبر اللہ آبادی