سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
غریب خانے میں للہ دو گھڑی بیٹھو
غریب خانے میں للہ دو گھڑی بیٹھو بہت دنوں میں تم آئے ہو اس گلی کی طرف ذرا سی دیر جو ہو جائے گی تو کیا ہوگا گھڑی گھڑی نہ اٹھاؤ نظر گھڑی کی طرف جو گھر میں پوچھے کوئی خوف کیا ہے کہہ دینا چلے گئے تھے ٹہلتے ہوئے کسی کی طرف
ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے
ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے منہ سے جو نہیں نکلی ہے اب ہاں نہ کریں گے کیوں زلف کا بوسہ مجھے لینے نہیں دیتے کہتے ہیں کہ واللہ پریشاں نہ کریں گے ہے ذہن میں اک بات تمہارے متعلق خلوت میں جو پوچھو گے تو پنہاں نہ کریں گے واعظ تو بناتے ہیں مسلمان کو کافر افسوس یہ کافر کو مسلماں نہ کریں گے کیوں شکر گزاری کا مجھے شوق ہے اتنا سنتا ہوں وہ مجھ پر کوئی احساں نہ کریں گے دیوانہ نہ سمجھے ہمیں وہ سمجھے شرابی اب چاک کبھی جیب و گریباں نہ کریں گے وہ جانتے ہیں غیر مرے گھر میں ہے مہماں آئیں گے تو مجھ پر کوئی احساں نہ کریں گے