سپیکرز
خواجہ اشرف کا پیش کردہ کلام
اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے
اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے ان کو ہم قصۂ غم اپنا سنا ہی نہ سکے ذہن میرا وہ قیامت کہ دو عالم پہ محیط آپ ایسے کہ مرے ذہن میں آ ہی نہ سکے دیکھ لیتے جو انہیں تو مجھے رکھتے معذور شیخ صاحب مگر اس بزم میں جا ہی نہ سکے عقل مہنگی ہے بہت عشق خلاف تہذیب دل کو اس عہد میں ہم کام میں لا ہی نہ سکے ہم تو خود چاہتے تھے چین سے بیٹھیں کوئی دم آپ کی یاد مگر دل سے بھلا ہی نہ سکے عشق کامل ہے اسی کا کہ پتنگوں کی طرح تاب نظارۂ معشوق کی لا ہی نہ سکے دام ہستی کی بھی ترکیب عجب رکھی ہے جو پھنسے اس میں وہ پھر جان بچا ہی نہ سکے مظہر جلوۂ جاناں ہے ہر اک شے اکبرؔ بے ادب آنکھ کسی سمت اٹھا ہی نہ سکے ایسی منطق سے تو دیوانگی بہتر اکبرؔ کہ جو خالق کی طرف دل کو جھکا ہی نہ سکے
رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی
رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی واعظ کی بات رہ گئی ساقی کی چل گئی طیار تھے نماز پہ ہم سن کے ذکر حور جلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی مچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمے پہ شاد ہے صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی چمکا ترا جمال جو محفل میں وقت شام پروانہ بیقرار ہوا شمع جل گئی عقبیٰ کی باز پرس کا جاتا رہا خیال دنیا کی لذتوں میں طبیعت بہل گئی حسرت بہت ترقیٔ دختر کی تھی انہیں پردہ جو اٹھ گیا تو وہ آخر نکل گئی