اکبر اللہ آبادی

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)

04 December 2025

22سپیکرز
209لسنرز

سپیکرز

خواجہ اشرف کا پیش کردہ کلام

اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے

اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے ان کو ہم قصۂ غم اپنا سنا ہی نہ سکے ذہن میرا وہ قیامت کہ دو عالم پہ محیط آپ ایسے کہ مرے ذہن میں آ ہی نہ سکے دیکھ لیتے جو انہیں تو مجھے رکھتے معذور شیخ صاحب مگر اس بزم میں جا ہی نہ سکے عقل مہنگی ہے بہت عشق خلاف تہذیب دل کو اس عہد میں ہم کام میں لا ہی نہ سکے ہم تو خود چاہتے تھے چین سے بیٹھیں کوئی دم آپ کی یاد مگر دل سے بھلا ہی نہ سکے عشق کامل ہے اسی کا کہ پتنگوں کی طرح تاب نظارۂ معشوق کی لا ہی نہ سکے دام ہستی کی بھی ترکیب عجب رکھی ہے جو پھنسے اس میں وہ پھر جان بچا ہی نہ سکے مظہر جلوۂ جاناں ہے ہر اک شے اکبرؔ بے ادب آنکھ کسی سمت اٹھا ہی نہ سکے ایسی منطق سے تو دیوانگی بہتر اکبرؔ کہ جو خالق کی طرف دل کو جھکا ہی نہ سکے

— اکبر اللہ آبادی

رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی

رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی واعظ کی بات رہ گئی ساقی کی چل گئی طیار تھے نماز پہ ہم سن کے ذکر حور جلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی مچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمے پہ شاد ہے صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی چمکا ترا جمال جو محفل میں وقت شام پروانہ بیقرار ہوا شمع جل گئی عقبیٰ کی باز پرس کا جاتا رہا خیال دنیا کی لذتوں میں طبیعت بہل گئی حسرت بہت ترقیٔ دختر کی تھی انہیں پردہ جو اٹھ گیا تو وہ آخر نکل گئی

— اکبر اللہ آبادی