اکبر اللہ آبادی

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)

04 December 2025

22سپیکرز
209لسنرز

سپیکرز

نین سکھ کا پیش کردہ کلام

کوئی ہنس رہا ہے کوئی رو رہا ہے

کوئی ہنس رہا ہے کوئی رو رہا ہے کوئی پا رہا ہے کوئی کھو رہا ہے کوئی تاک میں ہے کسی کو ہے غفلت کوئی جاگتا ہے کوئی سو رہا ہے کہیں ناامیدی نے بجلی گرائی کوئی بیج امید کے بو رہا ہے اسی سوچ میں میں تو رہتا ہوں اکبرؔ یہ کیا ہو رہا ہے یہ کیوں ہو رہا ہے

— اکبر اللہ آبادی