اکبر اللہ آبادی

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)

04 December 2025

22سپیکرز
209لسنرز

سپیکرز

انورجمال کا پیش کردہ کلام

چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں

چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں آرزو میں نے کوئی کی ہی نہیں مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں چاہتا تھا بہت سی باتوں کو مگر افسوس اب وہ جی ہی نہیں جرأت عرض حال کیا ہوتی نظر لطف اس نے کی ہی نہیں اس مصیبت میں دل سے کیا کہتا کوئی ایسی مثال تھی ہی نہیں آپ کیا جانیں قدر یا اللہ جب مصیبت کوئی پڑی ہی نہیں شرک چھوڑا تو سب نے چھوڑ دیا میری کوئی سوسائٹی ہی نہیں پوچھا اکبرؔ ہے آدمی کیسا ہنس کے بولے وہ آدمی ہی نہیں

— اکبر اللہ آبادی