آبرو شاہ مبارک

جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک

17 January 2026

13سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

بہار آئی گلی کی طرح دل کھول

بہار آئی گلی کی طرح دل کھول گلوں کی بھانت ہنس بلبل کے جوں بول پیا تیرے زنخ میں چاہ کر کے ہوئے سب عاشقاں کے دل ڈواں ڈول ہمارے جان و دل سیں غم نیں ضد کی ہوا دل تنگ و جامے میں پڑا جھول بلا ہے راہ بہکانے کوں یہ زلف گیا ہے بیچ اس کے دیکھ مرغول بکائی ہاتھ اس کے آپ زر دے بھلا یوسف زلیخا نیں لیا مول

— آبرہ شاہ مبارک

نپٹ یہ ماجرا یارو کڑا ہے

نپٹ یہ ماجرا یارو کڑا ہے مسافر دشمنوں میں آ پڑا ہے رقیب اپنے اوپر ہوتے ہیں مغرور غلط جاناں ہے حق سب سیں بڑا ہے جو وہ بولے سوئی وہ بولتا ہے رقیب اب بھوت ہو کر سر چڑھا ہے خدا حافظ ہے میرے دل کا یارو پتھر سیں جا کے یہ شیشہ لڑا ہے برنگ ماہیٔ بے آب نس دن سجن نیں دل ہمارا تڑپھڑا ہے رقیباں کی نہیں فوجاں کا وسواس ادھر سیں عاشقاں کا بھی دھڑا ہے کرے کیا آبروؔ کیوں کر ملن ہو رقیباں کے صنم بس میں پڑا ہے

— آبرہ شاہ مبارک