آبرو شاہ مبارک

جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک

17 January 2026

13سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

وقاراحسن کا پیش کردہ کلام

رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلا

رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلا چلی جاتی ہے فرمائش کبھی یہ لا کبھی وہ لا مجھے ان کہنہ افلاکوں میں رہنا خوش نہیں آتا بنایا اپنے دل کا ہم نیں اور ہی ایک نو محلا رہی ہے سر نوا سنمکھ گئی ہے بھول منصوبہ تری انکھیوں نیں شاید مات کی ہے نرگس شہلا کیا تھا غیر نیں ہم رنگ ہو کر وصل کا سودا تمہارا دیکھ مکھ کا آفتاب اس کا تو دل دہلا کف پا یار کا ہے پھول کی پنکھڑی سے نازک تر مرا دل نرم تر ہے اس کے ہوتے اس سے مت سہلا جوابوں میں غزل کے آبروؔ کیوں کہل کرتا ہے تو اک ادنیٰ توجہ بیچ کہہ لیتا ہے مت کہلا

— آبرہ شاہ مبارک

گناہ گاروں کی عذر خواہی ہمارے صاحب قبول کیجے

گناہ گاروں کی عذر خواہی ہمارے صاحب قبول کیجے کرم تمہارے کی کر توقع یہ عرض کیتے ہیں مان لیجے غریب عاجز جفا کے مارے فقیر بے کس گدا تمہارے سو ویں ستم سیں مریں بچارے اگر جو ان پر کرم نہ کیجے پڑے ہیں ہم بیچ میں بلا کے کرم کرو واسطے خدا کے ہوئے ہیں بندے تری رضا کے جو کچھ کے حق میں ہمارے کیجے بپت پڑی ہے جنہوں پے غم کی جگر میں آتش لگی الم کی کہاں ہے طاقت انہیں ستم کی کہ جن پہ ایتا عتاب کیجے ہمارے دل پہ جو کچھ کہ گزرا تمہارے دل پر اگر ہو ظاہر تو کچھ عجب نہیں پتھر کی مانند اگر یتھا دل کی سن پسیجے اگر گنہ بھی جو کچھ ہوا ہے کہ جس سیں ایتا ضرر ہوا ہے تو ہم سیں وہ بے خبر ہوا ہے دلوں سیں اس کوں بھلائے دیجے ہوئے ہیں ہم آبروؔ نشانے لگے ہیں طعنے کے تیر کھانے ترا برا ہو ارے زمانے بتا تو اس طرح کیوں کہ جیجے

— آبرہ شاہ مبارک