سپیکرز
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
بڑھے ہے دن بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہ
بڑھے ہے دن بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہ کہ جوں کر گرم ہو ہے آفتاب آہستہ آہستہ کیا خط نیں ترے مکھ کوں خراب آہستہ آہستہ گہن جوں ماہ کوں لیتا ہے داب آہستہ آہستہ لگا ہے آپ سیں اے جاں ترے عاشق کا دل رہ رہ کرے ہے مست کوں بے خود شراب آہستہ آہستہ دل عاشق کا کلی کی طرح کھلتا جائے خوش ہو ہو ادا سیں جب کبھی کھولے نقاب آہستہ آہستہ لگا ہے آبروؔ مجھ کوں ولیؔ کا خوب یہ مصرع سوال آہستہ آہستہ جواب آہستہ آہستہ
ہمارے سانولے کوں دیکھ کر جی میں جلی جامن
ہمارے سانولے کوں دیکھ کر جی میں جلی جامن لگا پھیکا سواد اس کا نہیں لگتی بھلی جامن سراپا آج نمکینی و نرمی و گدازی سوں ہوا یہ سانولا گویا نمک میں کی گلی جامن لگے ہے ترش ظاہر میں پے ہے یہ سانولا میٹھا مزے داری میں ہے گویا یہ مصری کی ڈلی جامن تمہارے رنگ کی تمثیل اس کوں دوں تو کھل جاوے خوشی سیں سانوری ہو کر کے کوئل کی کلی جامن کیا رم سانورے نیں آبروؔ کوں دیکھ کر پانی لگا برسات کا موسم دیکھو یارو چلی جامن