آبرو شاہ مبارک

جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک

17 January 2026

13سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

زاہدحسین کا پیش کردہ کلام

بڑھے ہے دن بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہ

بڑھے ہے دن بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہ کہ جوں کر گرم ہو ہے آفتاب آہستہ آہستہ کیا خط نیں ترے مکھ کوں خراب آہستہ آہستہ گہن جوں ماہ کوں لیتا ہے داب آہستہ آہستہ لگا ہے آپ سیں اے جاں ترے عاشق کا دل رہ رہ کرے ہے مست کوں بے خود شراب آہستہ آہستہ دل عاشق کا کلی کی طرح کھلتا جائے خوش ہو ہو ادا سیں جب کبھی کھولے نقاب آہستہ آہستہ لگا ہے آبروؔ مجھ کوں ولیؔ کا خوب یہ مصرع سوال آہستہ آہستہ جواب آہستہ آہستہ

— آبرہ شاہ مبارک

ہمارے سانولے کوں دیکھ کر جی میں جلی جامن

ہمارے سانولے کوں دیکھ کر جی میں جلی جامن لگا پھیکا سواد اس کا نہیں لگتی بھلی جامن سراپا آج نمکینی و نرمی و گدازی سوں ہوا یہ سانولا گویا نمک میں کی گلی جامن لگے ہے ترش ظاہر میں پے ہے یہ سانولا میٹھا مزے داری میں ہے گویا یہ مصری کی ڈلی جامن تمہارے رنگ کی تمثیل اس کوں دوں تو کھل جاوے خوشی سیں سانوری ہو کر کے کوئل کی کلی جامن کیا رم سانورے نیں آبروؔ کوں دیکھ کر پانی لگا برسات کا موسم دیکھو یارو چلی جامن

— آبرہ شاہ مبارک