آبرو شاہ مبارک

جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک

17 January 2026

13سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

کماں ہوا ہے قد ابرو کے گوشہ گیروں کا

کماں ہوا ہے قد ابرو کے گوشہ گیروں کا تباہے حال تری زلف کے اسیروں کا ڈھلے ہے جس پہ دل تس کا کیا ہے ظاہر اسم وہی ہے وہ کہ جو مرجع ہے ان ضمیروں کا ہر ایک سبز ہے ہندوستان کا معشوق بجا ہے نام کہ بالم رکھا ہے کھیروں کا مرید پیٹ کے کیوں نعرہ زن نہ ہوں ان کا برا ہے حال کہ لاگا ہے زخم پیروں کا برہ کی راہ میں جو کوئی گرا سو پھر نہ اٹھا قدم پھرا نہیں یاں آ کے دست گیروں کا وہ اور شکل ہے کرتی ہے دل کو جو تسخیر عبث ہے شیخ ترا نقش یہ لکیروں کا سیلی میں جوں کہ لٹکا ہو آبروؔ یوں دل سجن کی زلف میں لٹکا لیا فقیروں کا

— آبرہ شاہ مبارک

یار روٹھا ہے ہم سیں منتا نہیں

یار روٹھا ہے ہم سیں منتا نہیں دل کی گرمی سیں کچھ او پہنتا نہیں تجھ کو گہنا پہنا کے میں دیکھوں حیف ہے یہ بناؤ بنتا نہیں جن نیں اس نوجوان کو برتا وہ کسی اور کو برتتا نہیں کوفت چہرے پہ شب کی ظاہر ہے کیوں کے کہیے کہ کچھ چنتا نہیں شوق نہیں مجھ کوں کچھ مشیخت کا جال مکڑی کی طرح تنتا نہیں تیرے تن کا خمیر اور ہی ہے آب و گل اس صفا سیں سنتا نہیں جیو دنیا بھی کام ہے لیکن آبروؔ بن کوئی کرنتا نہیں

— آبرہ شاہ مبارک

کوئی خواب دشتِ فراق میں سر ِشام چہرہ کشا ہوا

کوئی خواب دشتِ فراق میں سر ِشام چہرہ کشا ہوا مری چشم تر میں رکا نہیں کہ تھا رتجگوں کا ڈسا ہوا مرے دل کو رکھتا ہے شادماں، مرے ہونٹ رکھتا ہے گل فشاں وہی ایک لفظ جو آپ نے، مرے کان میں ہے کہا ہوا ہے نگاہ میں مری آج تک، وہ نگاہ کوئی جھکی ہوئی وہ جو دھیان تھا کسی دھیان میں، وہیں آج بھی ہے لگا ہوا مرے رتجگوں کے فشار میں، مری خواہشوں کے غبار میں وہی ایک وعدہ گلاب سا، سر ِنخل جاں ہے کھلا ہوا تری چشم ِخوش کی پناہ میں، کسی خواب زار کی راہ میں مرے غم کا چاند ٹھہر گیا، کہ تھا رات بھر کا تھکا ہوا کسی دل کشا سی پکار سے، اسی ایک بادِبہار سے کہیں برگ برگ نمو ملی ،کہیں زخم زخم ہرا ہوا ترے شہرِعدل سے آج کیا، سبھی درد مند چلے گئے؟ نہیں کاغذی کوئی پیرہن، نہیں ہاتھ کوئی اٹھا ہوا

— امجد اسلام امجد