سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہے
ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہے لیکن کبھو نہ دیکھا کیتا ہے اور کہاں ہے ڈھونڈا ہزار تو بھی تیرا نشاں نہ پایا لشکر میں گل رخاں کے تیری مثل کہاں ہے اب تشنگی کا روزہ شاید کھلے ہمارا شام و شفق سجن کا مسی و رنگ پاں ہے دل میں کیا ہے دعوا انکھیاں ہوئی ہیں منکر تیری کمر کا جھگڑا ان دو کے درمیاں ہے رہتا ہوں اے پیارے قدموں تلے تمہارے جس راہ آوتے ہو عاجز کا وہیں مکاں ہے تجھ خط پشت لب میں تس کا سخن ہوا سبز اس کی زباں دہن میں مانند برگ پاں ہے پیری سیں قد کماں ہے ہر چند آبروؔ کا اس نوجواں کی خاطر دل اب تلک کشاں ہے
کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہ
کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہ لگ چکا اب چھوٹنا مشکل ہے اس کا دل ہے یہ بے قراری سیں نہ کر ظالم ہمارے دل کوں منع کیوں نہ تڑپے خاک و خوں میں اس قدر بسمل ہے یہ عشق کوں مجنوں کے افلاطوں سمجھ سکتا نہیں گو کہ سمجھاوے پہ سمجھے گا نہیں عاقل ہے یہ کون سمجھاوے مرے دل کوں کوئی منصف نہیں غیر حق کو چاہتا ہے کیوں ایتا باطل ہے یہ کون ہے انساں کا کوئی دوست ایسا جو کہے موت اس کی فکر میں لاگی ہے اور غافل ہے یہ عاشقی کے فن میں ہے دل سیں جھگڑنا بے حساب کچھ نہیں باقی رکھا اس علم میں فاضل ہے یہ ہم تو کہتے تھے کہ پھر پانے کے نہیں جانے نہ دو اب گئے پر آبروؔ پھر پائیے مشکل ہے یہ
اسے اپنے فردا کی فکر تھی، جو میرا واقفِ حال تھا
اسے اپنے فردا کی فکر تھی، جو میرا واقفِ حال تھا وہ جو اس کی صبحِ عروج تھی، وہی میرا وقتِ زوال تھا میرا درد کیسے وہ جانتا، میری بات کیسے وہ مانتا وہ تو خود فنا کے سفر میں تھا، اُسے روکنا بھی محال تھا کہاں جاؤ گے مجھے چھوڑ کر، میں یہ پوچھ پوچھ کے تھک گیا وہ جواب مجھ کو نہ دے سکا، وہ خود سراپا سوال تھا وہ جو اس کے سامنے آگیا، وہی روشنی میں نہا گیا عجب اس کی ہیبتِ حسن تھی، عجب اس کا رنگِ جمال تھا دمِ واپسی اسے کیا ہوا، نہ وہ روشنی نہ وہ تازگی وہ ستارہ کیسے بکھر گیا، وہ تو آپ اپنی مثال تھا وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی، میرے لب پہ کوئی گلہ نہ تھا اُسے میری چپ نے رلا دیا، جسے گفتگو میں کمال تھا میرے ساتھ لگ کے وہ رو دیا، اور مجھے فقط اتنا وہ کہہ سکا جسے جانتا تھا میں زندگی، وہ تو صرف وہم و خیال تھا کیا یہ غزل احمد ندیم ٖقاسمی کی ہے اور غزل کا متن مکمل اور صحیح ہے؟