سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
عشق ہے اختیار کا دشمن
عشق ہے اختیار کا دشمن صبر و ہوش و قرار کا دشمن دل تری زلف دیکھ کیوں نہ ڈرے جال ہو ہے شکار کا دشمن ساتھ اچرج ہے زلف و شانے کا مور ہوتا ہے مار کا دشمن دل سوزاں کوں ڈر ہے انجہواں سیں آب ہو ہے شرار کا دشمن کیا قیامت ہے عاشقی کے رشک یار ہوتا ہے یار کا دشمن آبروؔ کون جا کے سمجھاوے کیوں ہوا دوست دار کا دشمن
آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے
آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے راگ ہے مے ہے چمن ہے دل ربا ہے دید ہے دل دوانہ ہو گیا ہے دیکھ یہ صبح بہار رسمسا پھولوں بسا آیا انکھوں میں نیند ہے شیر عاشق آج کے دن کیوں رقیباں پے نہ ہوں یار پایا ہے بغل میں خانۂ خورشید ہے غم کے پیچھو راست کہتے ہیں کہ شادی ہووے ہے حضرت رمضاں گئے تشریف لے اب عید ہے عید کے دن رووتا ہے ہجر سیں رمضان کے بے نصیب اس شیخ کی دیکھو عجب فہمید ہے سلک اس کی نظم کا کیوں کر نہ ہووے قیمتی آبروؔ کا شعر جو دیکھا سو مروارید ہے