آبرو شاہ مبارک

جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک

17 January 2026

13سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

حرم شاہ کا پیش کردہ کلام

شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی

شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی درد جو دل میں ہے چمکے تو سہی ہم وہیں پر بسا لیں خود کو وہ کبھی راہ میں روکے تو سہی مجھے تنہائیوں کا خوف کیوں ہے وہ مرے پیار کو سمجھے تو سہی وہ قیامت ہو ،ستارہ ہوکہ دل کچھ نہ کچھ ہجر میں ٹوٹے تو سہی سب سے ہٹ کر منانا ہے اُسے ہم سے اک بار وہ روٹھے تو سہی اُس کی نفرت بھی محبت ہو گی میرے بارے میں وہ سوچے تو سہی دل اُسی وقت سنبھل جائے گا دل کا احوال وہ پوچھے تو سہی اُس کے قدموں میں بچھا دوں آنکھیں میری بستی سے وہ گزرے تو سہی میرا جسم آئینہ خانہ ٹھہرے میری جانب کبھی دیکھے تو سہی اُس کے سب جھوٹ بھی سچ ہیں محسن شرط اتنی ہے کہ، بولے تو سہی

— محسن نقوی