سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ملک
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حرم شاہ
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سجاد رضا
سید جینٹلمین
فائیٹر
کریسنٹ
ورک
وقاراحسن
حرم شاہ کا پیش کردہ کلام
شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی
شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی درد جو دل میں ہے چمکے تو سہی ہم وہیں پر بسا لیں خود کو وہ کبھی راہ میں روکے تو سہی مجھے تنہائیوں کا خوف کیوں ہے وہ مرے پیار کو سمجھے تو سہی وہ قیامت ہو ،ستارہ ہوکہ دل کچھ نہ کچھ ہجر میں ٹوٹے تو سہی سب سے ہٹ کر منانا ہے اُسے ہم سے اک بار وہ روٹھے تو سہی اُس کی نفرت بھی محبت ہو گی میرے بارے میں وہ سوچے تو سہی دل اُسی وقت سنبھل جائے گا دل کا احوال وہ پوچھے تو سہی اُس کے قدموں میں بچھا دوں آنکھیں میری بستی سے وہ گزرے تو سہی میرا جسم آئینہ خانہ ٹھہرے میری جانب کبھی دیکھے تو سہی اُس کے سب جھوٹ بھی سچ ہیں محسن شرط اتنی ہے کہ، بولے تو سہی