سپیکرز
سجاد رضا کا پیش کردہ کلام
مت غضب کر چھوڑ دے غصہ سجن
مت غضب کر چھوڑ دے غصہ سجن آ جدائی خوب نئیں مل جا سجن بے دلوں کی عذر خواہی مان لے جو کہ ہونا تھا سو ہو گزرا سجن تم سوا ہم کوں کہیں جاگا نہیں پس لڑو مت ہم سیتی بے جا سجن مر گئے غم سیں تمہارے ہم پیا کب تلک یہ خون غم کھانا سجن جو لگے اب کاٹنے اخلاص کے کیا یہی تھا پیار کا ثمرا سجن چھوڑ تم کوں اور کس سیں ہم ملیں کون ہے دنیا میں کوئی تم سا سجن پاؤں پڑتا ہوں تمہارے رحم کو بات میری مان لے ہاہا سجن تنگ رہنا کب تلک غنچے کی طرح پھول کے مانند ٹک کھل جا سجن آبروؔ کوں کھو کے پچھتاؤ گے تم ہم کو لازم ہے اتا کہنا سجن
نہیں گھر میں فلک کے دل کشائی
نہیں گھر میں فلک کے دل کشائی کہاں ہوتی ہے یہاں میری سمائی کرے جو بندگی سو ہو گنہ گار نیاری ہے یہاں کی کچھ خدائی ذبح کرنے کوں ناحق بے کسوں کے بتا تیری کمر یہ کن کسائی تم اپنی بات کے راجا ہو پیارے کہیں سیں ضد تمہیں ہو ہے سوائی چمن کوں جیت آئے ناز بو جب تمہارے سبزۂ خط نیں ہرائی سپیدی قند کی پھیکی لگی جب تمہارے رنگ کی دیکھی گرائی بہا خون جگر انکھیوں سیں پل پل سجن بن رات ہم کوں یوں بہائی نہیں ٹکنے کا پاؤں آبروؔ کا گلی کی راہ اس کے ہات آئی
دل کی آنکھوں کو میری وا کر دے
دل کی آنکھوں کو میری وا کر دے مجھ پہ اتنا کرم خدا کر دے تیری حکمت ھے مجھ میں اوراُن میں چودہ صدیوں کا فاصلہ کردے زر ، زمیں اور زن جو حائل ہو بھائی کو بھائی سے جدا کر دے تیرا لشکر خَفی ہے دنیا سے نیل میں راستہ عَصا کر دے خوف آتا ہے دل دُکھانے سے دل نہ محشر کہیں بپا کردے خواب کا خوف دے نبی ع کو مگر اُس کی تعبیر کربلا کردے دار منزل رضا اَناالحق کی گر زباں سے کوئی ادا کردے