آبرو شاہ مبارک

جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک

17 January 2026

13سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہو

اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہو افعی کہو سیاہ کہو اژدہا کہو قاتل نگہ کوں پوچھتے کیا ہو کہ کیا کہو خنجر کہو کٹار کہو نیمچا کہو ٹک واسطے خدا کے مرا عجز جا کہو بیکس کہو غریب کہو خاک پا کہو عاشق کا درد حال چھپانا نہیں درست پرگھٹ کہو پکار کہو برملا کہو اس تیغ زن نیں دل کوں دیا ہے مرے خطاب بسمل کہو شہید کہو جاں فدا کہو شاہ نجف کے نام کوں لوں آبروؔ سیں سیکھ ہادی کہو امام کہو رہ نما کہو

— آبرہ شاہ مبارک

خورشید رو کے آگے ہو نور کا سوالی

خورشید رو کے آگے ہو نور کا سوالی کاسہ لیے گدا کا آیا ہے چاند خالی سناہٹا جدا ہے اور بے خودی نرالی ہے میرے جی کے حق میں یہ ابر برس گالی مجنوں تو باؤلا تھا جن راہ لی جنگل کی سیانا وہی کہ جس نیں کہ شہر کی ہوا لی لوہو میں لوٹتا ہے بخت سیہ کا برجا کالی گھٹا میں زیبا لاگے شفق کی لالی

— آبرہ شاہ مبارک

محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئے

محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئے دیکھتے ہی دیکھتے ہم کیا سے کیا ہوتے گئے نا شناسی دہر کی تنہا ہمیں کرتی گئی ہوتے ہوتے ہم زمانے سے جدا ہوتے گئے منتظر جیسے تھے در شہر فراق آثار کے اک ذرا دستک ہوئی در دم میں وا ہوتے گئے حرف پردہ پوش تھے اظہار دل کے باب میں حرف جتنے شہر میں تھے حرف لا ہوتے گئے وقت کس تیزی سے گزرا روزمرہ میں منیرؔ آج کل ہوتا گیا اور دن ہوا ہوتے گئے

— منیرنیازی