سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہو
اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہو افعی کہو سیاہ کہو اژدہا کہو قاتل نگہ کوں پوچھتے کیا ہو کہ کیا کہو خنجر کہو کٹار کہو نیمچا کہو ٹک واسطے خدا کے مرا عجز جا کہو بیکس کہو غریب کہو خاک پا کہو عاشق کا درد حال چھپانا نہیں درست پرگھٹ کہو پکار کہو برملا کہو اس تیغ زن نیں دل کوں دیا ہے مرے خطاب بسمل کہو شہید کہو جاں فدا کہو شاہ نجف کے نام کوں لوں آبروؔ سیں سیکھ ہادی کہو امام کہو رہ نما کہو
خورشید رو کے آگے ہو نور کا سوالی
خورشید رو کے آگے ہو نور کا سوالی کاسہ لیے گدا کا آیا ہے چاند خالی سناہٹا جدا ہے اور بے خودی نرالی ہے میرے جی کے حق میں یہ ابر برس گالی مجنوں تو باؤلا تھا جن راہ لی جنگل کی سیانا وہی کہ جس نیں کہ شہر کی ہوا لی لوہو میں لوٹتا ہے بخت سیہ کا برجا کالی گھٹا میں زیبا لاگے شفق کی لالی
محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئے
محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئے دیکھتے ہی دیکھتے ہم کیا سے کیا ہوتے گئے نا شناسی دہر کی تنہا ہمیں کرتی گئی ہوتے ہوتے ہم زمانے سے جدا ہوتے گئے منتظر جیسے تھے در شہر فراق آثار کے اک ذرا دستک ہوئی در دم میں وا ہوتے گئے حرف پردہ پوش تھے اظہار دل کے باب میں حرف جتنے شہر میں تھے حرف لا ہوتے گئے وقت کس تیزی سے گزرا روزمرہ میں منیرؔ آج کل ہوتا گیا اور دن ہوا ہوتے گئے