آبرو شاہ مبارک

جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک

17 January 2026

13سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

زندگانی سراب کی سی طرح

زندگانی سراب کی سی طرح باد بندی حباب کی سی طرح تجھ اوپر خون بے گناہوں کا چڑھ رہا ہے شراب کی سی طرح کون چاہے گا گھر بسر تجھ کو مجھ سے خانہ خراب کی سی طرح ٹک خبر لے کہ تیرے ہاتھوں سیں جل رہا ہوں کباب کی سی طرح

— آبرہ شاہ مبارک

کس کی رکھتی ہیں یہ مجال انکھیاں

کس کی رکھتی ہیں یہ مجال انکھیاں کہ دیکھیں مکھ ترا سنبھال انکھیاں سرمہ سیتی بنا سیاہ برن آج دل کوں ہوئی ہیں کال انکھیاں رقص انجھواں کا بے اصول نہیں کف مژگاں سوں دے ہیں تال انکھیاں جب اٹھاتی ہیں گریہ سیں طوفاں کف دریا کریں رومال انکھیاں صید کرنے کوں دل کے مژگاں سوں روپتے ہیں بنا کے جال انکھیاں دل کوں اک تل نہیں مرے آرام لگی ہیں جب سوں تیرے نال انکھیاں دل کی خونیں اگر نہیں تو کیوں اس قدر ہیں تمہاری لال انکھیاں تیر مژگاں کمان ابرو سیں مارتی ہیں جگر میں بھال انکھیاں آبروؔ جب کبھی نگاہ کریں تب لے جاں تن سیں جی نکال انکھیاں

— آبرہ شاہ مبارک