آبرو شاہ مبارک

جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک

17 January 2026

13سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

سرسوں لگا کے پاؤں تلک دل ہوا ہوں میں

سرسوں لگا کے پاؤں تلک دل ہوا ہوں میں یاں لگ ہنر میں عشق کے کامل ہوا ہوں میں سینکوں نگاہ گرم سیں خوش چشم کی مجھے شمشیر اس بھواں کے سیں گھائل ہوا ہوں میں مانند آسماں ہے مشبک مرا جگر کس کی نگہ سیں آج مقابل ہوا ہوں میں بھاری ہے دیکھنا مرا تجھ کن رقیب کوں چھاتی پے اس کی آج بجرسل ہوا ہوں میں زلف مطول و دہن مختصر کوں دیکھ تیرے درس کے علم میں فاضل ہوا ہوں میں

— آبرہ شاہ مبارک

شوق بڑھتا ہے مرے دل کا دل افگاروں کے بیچ

شوق بڑھتا ہے مرے دل کا دل افگاروں کے بیچ جوش کرتا ہے جنوں مجنوں کا گلزاروں کے بیچ عاشقاں کے بیچ مت لے جا دل بے شوق کو شیشۂ خالی کو کیا عزت ہے مے خواروں کے بیچ رو بہ رو اور آنکھ اوجھل ایک ساں ہو جس کا پیار اس طرح کا کم نظر آتا ہے کوئی یاروں کے بیچ آبروؔ غم کے بھنور میں دل خدا سیتی لگا ناخدا کچھ کام آتا نہیں ہے منجدھاروں کے بیچ

— آبرہ شاہ مبارک

کیا بری طرح بھوں مٹکتی ہے

کیا بری طرح بھوں مٹکتی ہے کہ مرے دل میں آ کھٹکتی ہے زلف کی شان مکھ اوپر دیکھو کہ گویا عرش میں لٹکتی ہے اب تلک گرچہ مر گیا فرہاد روح پتھر سیں سر لٹکتی ہے دل کبابوں میں کون کچا ہے عشق کی آگ کیوں چٹکتی ہے آبروؔ جا پہنچ کہ پیاسی زلف ناگنی کی طرح بھٹکتی ہے

— آبرہ شاہ مبارک