سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
سرسوں لگا کے پاؤں تلک دل ہوا ہوں میں
سرسوں لگا کے پاؤں تلک دل ہوا ہوں میں یاں لگ ہنر میں عشق کے کامل ہوا ہوں میں سینکوں نگاہ گرم سیں خوش چشم کی مجھے شمشیر اس بھواں کے سیں گھائل ہوا ہوں میں مانند آسماں ہے مشبک مرا جگر کس کی نگہ سیں آج مقابل ہوا ہوں میں بھاری ہے دیکھنا مرا تجھ کن رقیب کوں چھاتی پے اس کی آج بجرسل ہوا ہوں میں زلف مطول و دہن مختصر کوں دیکھ تیرے درس کے علم میں فاضل ہوا ہوں میں
شوق بڑھتا ہے مرے دل کا دل افگاروں کے بیچ
شوق بڑھتا ہے مرے دل کا دل افگاروں کے بیچ جوش کرتا ہے جنوں مجنوں کا گلزاروں کے بیچ عاشقاں کے بیچ مت لے جا دل بے شوق کو شیشۂ خالی کو کیا عزت ہے مے خواروں کے بیچ رو بہ رو اور آنکھ اوجھل ایک ساں ہو جس کا پیار اس طرح کا کم نظر آتا ہے کوئی یاروں کے بیچ آبروؔ غم کے بھنور میں دل خدا سیتی لگا ناخدا کچھ کام آتا نہیں ہے منجدھاروں کے بیچ
کیا بری طرح بھوں مٹکتی ہے
کیا بری طرح بھوں مٹکتی ہے کہ مرے دل میں آ کھٹکتی ہے زلف کی شان مکھ اوپر دیکھو کہ گویا عرش میں لٹکتی ہے اب تلک گرچہ مر گیا فرہاد روح پتھر سیں سر لٹکتی ہے دل کبابوں میں کون کچا ہے عشق کی آگ کیوں چٹکتی ہے آبروؔ جا پہنچ کہ پیاسی زلف ناگنی کی طرح بھٹکتی ہے