سپیکرز
گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام
جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے
جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے ہم نے بس آپ کے لیے کیے تھے تب کہیں جا کے اپنی مرضی کی پہلے اپنوں سے مشورے کیے تھے کبھی اس کی نگہ میسر تھی کیسے کیسے مشاہدے کیے تھے عقل کچھ اور کر کے بیٹھ رہی عشق نے اور فیصلے کیے تھے بات ہم نے سنی ہوئی سنی تھی کام اس نے کیے ہوئے کیے تھے اسے بھی ایک خط لکھا گیا تھا اپنے آگے بھی آئنے کیے تھے یہاں کچھ بھی نہیں ہے میرے لیے تو نے کیا کیا مبالغے کیے تھے اول آنے کا شوق تھا لیکن کام سارے ہی دوسرے کیے تھے بڑی مشکل تھی وہ گھڑی جوادؔ ہم نے کب ایسے فیصلے کیے تھے
نہیں کہ پند و نصیحت کا قحط پڑ گیا ہے
نہیں کہ پند و نصیحت کا قحط پڑ گیا ہے ہماری بات میں برکت کا قحط پڑ گیا ہے تو پھر یہ رد مناجات کی نحوست کیوں کبھی سنا کہ عبادت کا قحط پڑ گیا ہے؟ ملال یہ ہے کہ اس پر کوئی ملول نہیں ہمارے شہر میں حیرت کا قحط پڑ گیا ہے سخن کا کھوکھلا ہونا سمجھ سے باہر تھا کھلا کہ حرف کی حرمت کا قحط پڑ گیا ہے کہیں کہیں نظر آئے تو آئے مصرعۂ تر نہیں تو شعر میں لذت کا قحط پڑ گیا ہے نصیب دل کو بھلا کب رہی فراوانی اور اب تو ویسے بھی مدت کا قحط پڑ گیا ہے مگر اب ایسی بھی کوئی اندھیر نگری نہیں یہ ٹھیک ہے کہ محبت کا قحط پڑ گیا ہے نہیں میں صرف بظاہر نہیں ہوا ویران درون ذات بھی شدت کا قحط پڑ گیا ہے کہاں گئیں مرے گاؤں کی رونقیں جوادؔ تو کیا یہاں بھی روایت کا قحط پڑ گیا ہے