جواد شیخ

جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ

12 February 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام

جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے

جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے ہم نے بس آپ کے لیے کیے تھے تب کہیں جا کے اپنی مرضی کی پہلے اپنوں سے مشورے کیے تھے کبھی اس کی نگہ میسر تھی کیسے کیسے مشاہدے کیے تھے عقل کچھ اور کر کے بیٹھ رہی عشق نے اور فیصلے کیے تھے بات ہم نے سنی ہوئی سنی تھی کام اس نے کیے ہوئے کیے تھے اسے بھی ایک خط لکھا گیا تھا اپنے آگے بھی آئنے کیے تھے یہاں کچھ بھی نہیں ہے میرے لیے تو نے کیا کیا مبالغے کیے تھے اول آنے کا شوق تھا لیکن کام سارے ہی دوسرے کیے تھے بڑی مشکل تھی وہ گھڑی جوادؔ ہم نے کب ایسے فیصلے کیے تھے

— جواد شیخ

نہیں کہ پند و نصیحت کا قحط پڑ گیا ہے

نہیں کہ پند و نصیحت کا قحط پڑ گیا ہے ہماری بات میں برکت کا قحط پڑ گیا ہے تو پھر یہ رد مناجات کی نحوست کیوں کبھی سنا کہ عبادت کا قحط پڑ گیا ہے؟ ملال یہ ہے کہ اس پر کوئی ملول نہیں ہمارے شہر میں حیرت کا قحط پڑ گیا ہے سخن کا کھوکھلا ہونا سمجھ سے باہر تھا کھلا کہ حرف کی حرمت کا قحط پڑ گیا ہے کہیں کہیں نظر آئے تو آئے مصرعۂ تر نہیں تو شعر میں لذت کا قحط پڑ گیا ہے نصیب دل کو بھلا کب رہی فراوانی اور اب تو ویسے بھی مدت کا قحط پڑ گیا ہے مگر اب ایسی بھی کوئی اندھیر نگری نہیں یہ ٹھیک ہے کہ محبت کا قحط پڑ گیا ہے نہیں میں صرف بظاہر نہیں ہوا ویران درون ذات بھی شدت کا قحط پڑ گیا ہے کہاں گئیں مرے گاؤں کی رونقیں جوادؔ تو کیا یہاں بھی روایت کا قحط پڑ گیا ہے

— جواد شیخ