سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا
یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا کہ اس کا بھی مری طرح سے جی سنبھل نہیں رہا کوئی ورق دکھا جو اشک خوں سے تر بہ تر نہ ہو کوئی غزل دکھا جہاں وہ داغ جل نہیں رہا میں ایک ہجر بے مراد جھیلتا ہوں رات دن جو ایسے صبر کی طرح ہے جس کا پھل نہیں رہا تو اب مرے تمام رنج مستقل رہیں گے کیا؟ تو کیا تمہاری خامشی کا کوئی حل نہیں رہا؟ کڑی مسافتوں نے کس کے پاؤں شل نہیں کیے؟ کوئی دکھاؤ جو بچھڑ کے ہاتھ مل نہیں رہا
تو کیا اِک ہمارے لیے ہی محبّت نیا تجربہ ہے ؟؟
تو کیا اِک ہمارے لیے ہی محبّت نیا تجربہ ہے ؟؟ جسے پوچھیے وہ کہے گا کہ جی ہاں بڑا تجربہ ہے !! سمجھ میں نہ آئے تو میری خموشی کو دل پر نہ لینا کہ یہ عقل والوں کی دانست سے ماورا تجربہ ہے کٹھن تو بہت ہے مگر دل کے رشتوں کو آزاد چھوڑو توقع نہ باندھو کہ یہ اِک اذیت بھرا تجربہ ہے مگر ہم مُصر تھے کہ ہم نے کتابیں بہت پڑھ رکھی ہیں بڑوں نے کہا بھی کہ دیکھو میاں تجربہ تجربہ ہے وہ اپنی جگہ خوش گُماں تھی کہ دائم ہے پہلی محبت میں اپنے تئیں مطمئن تھا کہ یہ دوسرا تجربہ ہے کسی اور کے تجربے سے کوئی فائدہ کیا اُٹھاوں محبت میں ہر تجربہ ہی الگ طرح کا تجربہ ہے