جواد شیخ

جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ

12 February 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا

یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا کہ اس کا بھی مری طرح سے جی سنبھل نہیں رہا کوئی ورق دکھا جو اشک خوں سے تر بہ تر نہ ہو کوئی غزل دکھا جہاں وہ داغ جل نہیں رہا میں ایک ہجر بے مراد جھیلتا ہوں رات دن جو ایسے صبر کی طرح ہے جس کا پھل نہیں رہا تو اب مرے تمام رنج مستقل رہیں گے کیا؟ تو کیا تمہاری خامشی کا کوئی حل نہیں رہا؟ کڑی مسافتوں نے کس کے پاؤں شل نہیں کیے؟ کوئی دکھاؤ جو بچھڑ کے ہاتھ مل نہیں رہا

— جواد شیخ

تو کیا اِک ہمارے لیے ہی محبّت نیا تجربہ ہے ؟؟

تو کیا اِک ہمارے لیے ہی محبّت نیا تجربہ ہے ؟؟ جسے پوچھیے وہ کہے گا کہ جی ہاں بڑا تجربہ ہے !! سمجھ میں نہ آئے تو میری خموشی کو دل پر نہ لینا کہ یہ عقل والوں کی دانست سے ماورا تجربہ ہے کٹھن تو بہت ہے مگر دل کے رشتوں کو آزاد چھوڑو توقع نہ باندھو کہ یہ اِک اذیت بھرا تجربہ ہے مگر ہم مُصر تھے کہ ہم نے کتابیں بہت پڑھ رکھی ہیں بڑوں نے کہا بھی کہ دیکھو میاں تجربہ تجربہ ہے وہ اپنی جگہ خوش گُماں تھی کہ دائم ہے پہلی محبت میں اپنے تئیں مطمئن تھا کہ یہ دوسرا تجربہ ہے کسی اور کے تجربے سے کوئی فائدہ کیا اُٹھاوں محبت میں ہر تجربہ ہی الگ طرح کا تجربہ ہے

— جواد شیخ