سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے
ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے کہ جسے دیکھ کے ہر دیکھنے والا ٹوٹے تو اسے کس کے بھروسے پہ نہیں کات رہی؟؟ چرخ کو دیکھنے والی!! ترا چرخہ ٹوٹے اپنے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹے کب تک؟؟ ایک انسان کی خاطر کوئی کتنا ٹوٹے کوئی ٹکڑا تری آنکھوں میں نہ چبھ جائے کہیں دور ہو جا کہ مرے خواب کا شیشہ ٹوٹے میں کسی اور کو سوچوں تو مجھے ہوش آئے میں کسی اور کو دیکھوں تو یہ نشہ ٹوٹے رنج ہوتا ہے تو ایسا کہ بتائے نہ بنے جب کسی اپنے کے باعث کوئی اپنا ٹوٹے پاس بیٹھے ہوئے یاروں کو خبر تک نہ ہوئی ہم کسی بات پہ اس درجہ انوکھا ٹوٹے اتنی جلدی تو سنبھلنے کی توقع نہ کرو!! وقت ہی کتنا ہوا ہے مرا سپنا ٹوٹے داد کی بھیک نہ مانگ!! اے مرے اچھے شاعر!! جا تجھے میری دعا ہے ترا کاسہ ٹوٹے ورنہ کب تک لیے پھرتا رہوں اس کو جوادؔ کوئی صورت ہو کہ امید سے رشتہ ٹوٹے
درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے
درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے اب تجھے قتل بھی کر دوں تو معافی ہے مجھے مسئلہ ایسے کوئی حل تو نہ ہوگا شاید شعر کہنا ہی مرے غم کی تلافی ہے مجھے دفعتاً اک نئے احساس نے چونکا سا دیا میں تو سمجھا تھا کہ ہر سانس اضافی ہے مجھے میں نہ کہتا تھا دوائیں نہیں کام آئیں گی جانتا تھا تری آواز ہی شافی ہے مجھے اس سے اندازہ لگاؤ کہ میں کس حال میں ہوں غیر کا دھیان بھی اب وعدہ خلافی ہے مجھے وہ کہیں سامنے آ جائے تو کیا ہو جوادؔ یاد ہی اس کی اگر سینہ شگافی ہے مجھے