سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
دل کو مآل عشق سے بیگانہ کیجیے
دل کو مآل عشق سے بیگانہ کیجیے پروانہ کہہ رہا ہے کہ پروا نہ کیجیے ہر خواب ناگزیر ہے ہر کام فرض ہے کس کس سے ہاتھ کھینچیے کیا کیا نہ کیجیے وہ بات جو ابھی ابھی میں نے نہیں سنی وہ بات ہو سکے تو دوبارہ نہ کیجیے مخلص ہیں اور وہ بھی مجھ ایسے حقیر سے اپنے ہی ساتھ آپ یہ دھوکہ نہ کیجیے کیا سچ میں آپ جی نہیں سکتے مرے بغیر تو پھر کوئی جواز مہیا نہ کیجیے اتنی بھی میری درگزری مستقل نہیں کتنی دفعہ کہا ہے کہ ایسا نہ کیجیے ہاں شکر تو ضرور بجا لائیے حضور لیکن ہمارے ضبط پہ تکیہ نہ کیجیے اچھا ہے انفراد بھی اپنی جگہ مگر جوادؔ کوئی کام تو الٹا نہ کیجیے
کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے
کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے جن کے پیش ِنظر عشق ہو ، سر نہیں دیکھتے جیسے میں دیکھتا ہوں جو مجھ کو دکھائی نہ دے آپ کیوں اپنے من چاہے منظر نہیں دیکھتے اور تو ایسی کوئی شکایت نہیں ہے مگر آپ میری جگہ خود کو رکھ کر نہیں دیکھتے اور یہ اک طرح کا ہم ایسوں پہ احسان ہے دیکھنے والی شے لوگ اکثر نہیں دیکھتے میں نہیں دیکھتا کیونکہ میری الگ بات ہے لوگ کس منہ سے اُس کو مکرّر نہیں دیکھتے دیکھنا ، دیکھ سکنے کے باعث مرا فرض ہے اور پھر اِس لیے بھی کہ دیگر نہیں دیکھتے فرض تھوڑی ہے بندے کو ہر بات کا علم ہو کیا بتائیں کہ ہم کیوں میسّر نہیں دیکھتے ہم کو جواد سمجھانے والا بھی کوئی نہیں کچھ بھی کرتے ہوئے اپنی چادر نہیں دیکھتے