جواد شیخ

جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ

12 February 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

دل کو مآل عشق سے بیگانہ کیجیے

دل کو مآل عشق سے بیگانہ کیجیے پروانہ کہہ رہا ہے کہ پروا نہ کیجیے ہر خواب ناگزیر ہے ہر کام فرض ہے کس کس سے ہاتھ کھینچیے کیا کیا نہ کیجیے وہ بات جو ابھی ابھی میں نے نہیں سنی وہ بات ہو سکے تو دوبارہ نہ کیجیے مخلص ہیں اور وہ بھی مجھ ایسے حقیر سے اپنے ہی ساتھ آپ یہ دھوکہ نہ کیجیے کیا سچ میں آپ جی نہیں سکتے مرے بغیر تو پھر کوئی جواز مہیا نہ کیجیے اتنی بھی میری درگزری مستقل نہیں کتنی دفعہ کہا ہے کہ ایسا نہ کیجیے ہاں شکر تو ضرور بجا لائیے حضور لیکن ہمارے ضبط پہ تکیہ نہ کیجیے اچھا ہے انفراد بھی اپنی جگہ مگر جوادؔ کوئی کام تو الٹا نہ کیجیے

— جواد شیخ

کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے

کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے جن کے پیش ِنظر عشق ہو ، سر نہیں دیکھتے جیسے میں دیکھتا ہوں جو مجھ کو دکھائی نہ دے آپ کیوں اپنے من چاہے منظر نہیں دیکھتے اور تو ایسی کوئی شکایت نہیں ہے مگر آپ میری جگہ خود کو رکھ کر نہیں دیکھتے اور یہ اک طرح کا ہم ایسوں پہ احسان ہے دیکھنے والی شے لوگ اکثر نہیں دیکھتے میں نہیں دیکھتا کیونکہ میری الگ بات ہے لوگ کس منہ سے اُس کو مکرّر نہیں دیکھتے دیکھنا ، دیکھ سکنے کے باعث مرا فرض ہے اور پھر اِس لیے بھی کہ دیگر نہیں دیکھتے فرض تھوڑی ہے بندے کو ہر بات کا علم ہو کیا بتائیں کہ ہم کیوں میسّر نہیں دیکھتے ہم کو جواد سمجھانے والا بھی کوئی نہیں کچھ بھی کرتے ہوئے اپنی چادر نہیں دیکھتے

— جواد شیخ