جواد شیخ

جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ

12 February 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے

عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے دنیا کو حال ہی نہیں حلیہ بھی چاہیے اے دل کسی بھی طرح مجھے دستیاب کر جتنا بھی چاہیے اسے جیسا بھی چاہیے دکھ ایسا چاہیے کہ مسلسل رہے مجھے اور اس کے ساتھ ساتھ انوکھا بھی چاہیے اک زخم مجھ کو چاہیے میرے مزاج کا یعنی ہرا بھی چاہیے گہرا بھی چاہیے اک ایسا وصف چاہیے جو صرف مجھ میں ہو اور اس میں پھر مجھے ید طولٰی بھی چاہیے رب سخن مجھے تری یکتائی کی قسم اب کوئی سن کے بولنے والا بھی چاہیے کیا ہے جو ہو گیا ہوں میں تھوڑا بہت خراب تھوڑا بہت خراب تو ہونا بھی چاہیے ہنسنے کو صرف ہونٹ ہی کافی نہیں رہے جوادؔ شیخ اب تو کلیجہ بھی چاہیے

— جواد شیخ

تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں

تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں جہاں بھی جو بھی ہے تیرے علاوہ بھول جاؤں تو کیا یہ دوسرا ہی عشق اصلی عشق سمجھوں تو پہلا تجربے کی ذیل میں تھا بھول جاؤں تو کیا اتنا ہی آساں ہے کسی کو بھول جانا کہ بس باتوں ہی باتوں میں بھلاتا بھول جاؤں کبھی کہتا ہوں اس کو یاد رکھنا ٹھیک ہوگا مگر پھر سوچتا ہوں فائدہ کیا بھول جاؤں تو کیا یہ دسترس اک روز حاصل ہوگی مجھ کو کہ ہر پل دھیان میں رکھوں اسے یا بھول جاؤں یہ کوئی قتل تھوڑی ہے کہ بات آئی گئی ہو میں اور اپنا نظر انداز ہونا بھول جاؤں ہیں اتنی جزئیات اس سانحے کی پوچھیے مت میں کیا کیا یاد رکھوں اور کیا کیا بھول جاؤں کوئی کب تک کسی کی بے وفائی یاد رکھے بہت ممکن ہے میں بھی رفتہ رفتہ بھول جاؤں تو کیا یہ کہہ کے خود کو مطمئن کر لو گے جواد کہ وہ ہے بھی اسی لائق لہٰذا بھول جاؤں

— جواد شیخ