سپیکرز
یادرفتگان کا پیش کردہ کلام
عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے
عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے دنیا کو حال ہی نہیں حلیہ بھی چاہیے اے دل کسی بھی طرح مجھے دستیاب کر جتنا بھی چاہیے اسے جیسا بھی چاہیے دکھ ایسا چاہیے کہ مسلسل رہے مجھے اور اس کے ساتھ ساتھ انوکھا بھی چاہیے اک زخم مجھ کو چاہیے میرے مزاج کا یعنی ہرا بھی چاہیے گہرا بھی چاہیے اک ایسا وصف چاہیے جو صرف مجھ میں ہو اور اس میں پھر مجھے ید طولٰی بھی چاہیے رب سخن مجھے تری یکتائی کی قسم اب کوئی سن کے بولنے والا بھی چاہیے کیا ہے جو ہو گیا ہوں میں تھوڑا بہت خراب تھوڑا بہت خراب تو ہونا بھی چاہیے ہنسنے کو صرف ہونٹ ہی کافی نہیں رہے جوادؔ شیخ اب تو کلیجہ بھی چاہیے
تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں
تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں جہاں بھی جو بھی ہے تیرے علاوہ بھول جاؤں تو کیا یہ دوسرا ہی عشق اصلی عشق سمجھوں تو پہلا تجربے کی ذیل میں تھا بھول جاؤں تو کیا اتنا ہی آساں ہے کسی کو بھول جانا کہ بس باتوں ہی باتوں میں بھلاتا بھول جاؤں کبھی کہتا ہوں اس کو یاد رکھنا ٹھیک ہوگا مگر پھر سوچتا ہوں فائدہ کیا بھول جاؤں تو کیا یہ دسترس اک روز حاصل ہوگی مجھ کو کہ ہر پل دھیان میں رکھوں اسے یا بھول جاؤں یہ کوئی قتل تھوڑی ہے کہ بات آئی گئی ہو میں اور اپنا نظر انداز ہونا بھول جاؤں ہیں اتنی جزئیات اس سانحے کی پوچھیے مت میں کیا کیا یاد رکھوں اور کیا کیا بھول جاؤں کوئی کب تک کسی کی بے وفائی یاد رکھے بہت ممکن ہے میں بھی رفتہ رفتہ بھول جاؤں تو کیا یہ کہہ کے خود کو مطمئن کر لو گے جواد کہ وہ ہے بھی اسی لائق لہٰذا بھول جاؤں