سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیں
ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیں ادھر وہ حسن کہ آنکھوں پہ اعتبار نہیں میں اب کسی کی بھی امید توڑ سکتا ہوں مجھے کسی پہ بھی اب کوئی اعتبار نہیں تم اپنی حالت غربت کا غم مناتے ہو خدا کا شکر کرو مجھ سے بے دیار نہیں میں سوچتا ہوں کہ وہ بھی دکھی نہ ہو جائے یہ داستان کوئی ایسی خوش گوار نہیں تو کیا یقین دلانے سے مان جاؤ گے؟ یقیں دلاؤں کہ یہ ہجر دل پہ بار نہیں قدم قدم پہ نئی ٹھوکریں ہیں راہوں میں دیار عشق میں کوئی بھی کامگار نہیں یہی سکون مری بے کلی نہ بن جائے کہ زندگی میں کوئی وجہ انتظار نہیں خدا کے بارے میں اک دن ضرور سوچیں گے ابھی تو خود سے تعلق بھی استوار نہیں گلہ تو مجھ سے وہ کرتا ہے اس طرح جوادؔ کہ جیسے میں تو جدائی میں سوگوار نہیں
مولا !! کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو
مولا !! کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو دلبر نہیں تو پھر کوئی دیگر نہ دیجیو اپنے سوال سہل نہ لگنے لگیں اُسے آتے بھی ہوں جواب تو فر فر نہ دیجیو چادر وہ دیجیو اُسے جس پر شکن نہ آئے جس پر شکن نہ آئے وہ بستر نہ دیجیو بکھراؤ کچھ نہیں بھی سمٹتے مرے عزیز !! اپنے کسی خیال کو پیکر نہ دیجیو یا دل سے ترک کیجیو دستار کا خیال یا اِس معاملے میں کبھی سر نہ دیجیو کہیو کہ تُو نے خوب بنائی ہے کائنات لیکن اُسے لکھائی کے نمبر نہ دیجیو معیار سے سِوا یہاں رفتار چاہیے جواد !! اُس کو آخری اوور نہ دیجیو