جواد شیخ

جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ

12 February 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیں

ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیں ادھر وہ حسن کہ آنکھوں پہ اعتبار نہیں میں اب کسی کی بھی امید توڑ سکتا ہوں مجھے کسی پہ بھی اب کوئی اعتبار نہیں تم اپنی حالت غربت کا غم مناتے ہو خدا کا شکر کرو مجھ سے بے دیار نہیں میں سوچتا ہوں کہ وہ بھی دکھی نہ ہو جائے یہ داستان کوئی ایسی خوش گوار نہیں تو کیا یقین دلانے سے مان جاؤ گے؟ یقیں دلاؤں کہ یہ ہجر دل پہ بار نہیں قدم قدم پہ نئی ٹھوکریں ہیں راہوں میں دیار عشق میں کوئی بھی کامگار نہیں یہی سکون مری بے کلی نہ بن جائے کہ زندگی میں کوئی وجہ انتظار نہیں خدا کے بارے میں اک دن ضرور سوچیں گے ابھی تو خود سے تعلق بھی استوار نہیں گلہ تو مجھ سے وہ کرتا ہے اس طرح جوادؔ کہ جیسے میں تو جدائی میں سوگوار نہیں

— جواد شیخ

مولا !! کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو

مولا !! کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو دلبر نہیں تو پھر کوئی دیگر نہ دیجیو اپنے سوال سہل نہ لگنے لگیں اُسے آتے بھی ہوں جواب تو فر فر نہ دیجیو چادر وہ دیجیو اُسے جس پر شکن نہ آئے جس پر شکن نہ آئے وہ بستر نہ دیجیو بکھراؤ کچھ نہیں بھی سمٹتے مرے عزیز !! اپنے کسی خیال کو پیکر نہ دیجیو یا دل سے ترک کیجیو دستار کا خیال یا اِس معاملے میں کبھی سر نہ دیجیو کہیو کہ تُو نے خوب بنائی ہے کائنات لیکن اُسے لکھائی کے نمبر نہ دیجیو معیار سے سِوا یہاں رفتار چاہیے جواد !! اُس کو آخری اوور نہ دیجیو

— جواد شیخ