سپیکرز
افراسیاب کا پیش کردہ کلام
داد تو بعد میں کمائیں گے
داد تو بعد میں کمائیں گے پہلے ہم سوچنا سکھائیں گے میں کہیں جا نہیں رہا لیکن آپ کیا میرے ساتھ آئیں گے کوئی کھڑکی کھلے گی رات گئے کئی اپنی مراد پائیں گے کھل کے رونے پہ اختیار نہیں ہم کوئی جشن کیا منائیں گے ہنسیں گے تیری بد حواسی پر لوگ رستہ نہیں بتائیں گے تم اٹھاؤ گے کوئی رنج مرا دوست احباب حظ اٹھائیں گے ہمیں اپنی تلاش میں مت بھیج کھڑی فصلیں اجاڑ آئیں گے
ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیا
ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیا دل وہ حجرہ ہے جہاں غم بھی خوشی سے آیا خامشی آئی دریدہ دہنی سے تیری دیکھنا مجھ کو تری کم نظری سے آیا فتح مندی کا جو اک رنگ ہے اس چہرے پر سرخ روئی سے نہیں دل شکنی سے آیا ورنہ راہیں تو مری سمت کئی آتی تھیں اس کو عجلت تھی سو بے راہروی سے آیا اب کوئی روک رہا ہو تو میں رک جاتا ہوں مجھ میں یہ وصف غریب الوطنی سے آیا موت کا خوف بڑا خوف ہے لیکن جوادؔ جو مجھے اس کی توجہ میں کمی سے آیا