جواد شیخ

جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ

12 February 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

افراسیاب کا پیش کردہ کلام

داد تو بعد میں کمائیں گے

داد تو بعد میں کمائیں گے پہلے ہم سوچنا سکھائیں گے میں کہیں جا نہیں رہا لیکن آپ کیا میرے ساتھ آئیں گے کوئی کھڑکی کھلے گی رات گئے کئی اپنی مراد پائیں گے کھل کے رونے پہ اختیار نہیں ہم کوئی جشن کیا منائیں گے ہنسیں گے تیری بد حواسی پر لوگ رستہ نہیں بتائیں گے تم اٹھاؤ گے کوئی رنج مرا دوست احباب حظ اٹھائیں گے ہمیں اپنی تلاش میں مت بھیج کھڑی فصلیں اجاڑ آئیں گے

— جواد شیخ

ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیا

ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیا دل وہ حجرہ ہے جہاں غم بھی خوشی سے آیا خامشی آئی دریدہ دہنی سے تیری دیکھنا مجھ کو تری کم نظری سے آیا فتح مندی کا جو اک رنگ ہے اس چہرے پر سرخ روئی سے نہیں دل شکنی سے آیا ورنہ راہیں تو مری سمت کئی آتی تھیں اس کو عجلت تھی سو بے راہروی سے آیا اب کوئی روک رہا ہو تو میں رک جاتا ہوں مجھ میں یہ وصف غریب الوطنی سے آیا موت کا خوف بڑا خوف ہے لیکن جوادؔ جو مجھے اس کی توجہ میں کمی سے آیا

— جواد شیخ