جواد شیخ

جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ

12 February 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

اک محبت کے حوالے سے مجھے جانتے ہیں

اک محبت کے حوالے سے مجھے جانتے ہیں وہ سبھی لوگ جو اچھے سے مجھے جانتے ہیں عام لوگوں میں اداسی ہے تعارف میرا اور شاعر مرے لہجے سے مجھے جانتے ہیں سونے والوں سے بھی نسبت کوئی ہوگی میری جاگنے والے تو گریے سے مجھے جانتے ہیں سب نے رکھی ہوئی ہے کوئی نشانی میری جیسے کچھ آنکھ کے حلقے سے مجھے جانتے ہیں میں کسی اور تعلق سے انہیں دیکھتا ہوں وہ کسی اور علاقے سے مجھے جانتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ مجھے لوگ نہیں جان سکے خاص کر جو بڑے دعوے سے مجھے جانتے ہیں

— جواد شیخ