جواد شیخ

جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ

12 February 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

مصری خان کا پیش کردہ کلام

تم اگر سیکھنا چاہو مجھے بتلا دینا

تم اگر سیکھنا چاہو مجھے بتلا دینا عام سا فن تو کوئی ہے نہیں تحفہ دینا ایک ہی شخص ہے جس کو یہ ہنر آتا ہے روٹھ جانے پہ فضا اور بھی مہکا دینا بھانپ لینا کہ بہت وقت نہیں اس کے پاس اور پھر اس کو کسی بحث میں الجھا دینا حسن دنیا میں اسی کام کو بھیجا گیا ہے کہ جہاں آگ لگی ہو اسے بھڑکا دینا ان بزرگوں کا یہی کام ہوا کرتا تھا جہاں خوبی نظر آئی اسے چمکا دینا دل بتاتا ہے مجھے عقل کی باتیں کیا کیا بندہ پوچھے کہ ترا ہے کوئی لینا دینا اور کچھ یاد نہ رہتا تھا لڑائی میں اسے ہاں مگر میرے گزشتہ کا حوالہ دینا اس کی فطرت میں نہ تھا ترک تعلق لیکن دوسرے شخص کو اس نہج پہ پہنچا دینا جانتا تھا کہ بہت خاک اڑائے گا مری کوئی آسان نہیں تھا اسے رستہ دینا یہ وہ منصب ہیں جو اپنوں کو دئے جاتے ہیں یاد کیا رکھنا اسے اور بھلا کیا دینا کیا پتہ خود سے چھڑی جنگ کہاں لے جائے جب بھی یاد آؤں مری جان کا صدقہ دینا دل کا سامان کوئی خاک خریدے اس سے یاد ہی جس کو نہ رہتا ہو بقایا دینا بات کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں مگر ختم ہے حضرت جوادؔ پہ لقمہ دینا

— جواد شیخ