سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
کرے گا کیا کوئی میرے گلے سڑے آنسو
کرے گا کیا کوئی میرے گلے سڑے آنسو تو کیوں نہ سوکھ ہی جائیں پڑے پڑے آنسو جو یاد آئیں تو دل غم سے پھٹنے لگتا ہے کسی عزیز کی پلکوں میں وہ جڑے آنسو ہوا میں اپنی تہی دامنی سے شرمندہ کسی کی آنکھوں میں تھے یہ بڑے بڑے آنسو خزاں میں پتے بھی ایسے کہاں جھڑے ہوں گے ہماری آنکھوں سے جوں ہجر میں جھڑے آنسو میں اس خیال سے جاتے ہوئے اسے نہ ملا کہ روک لیں نہ کہیں سامنے کھڑے آنسو کسی نے ایک طرف مر کے بھی گلہ نہ کیا کسی نے دیکھتے ہی دیکھتے گھڑے آنسو مہارت ایسی کہ بس دیکھتے ہی رہ جاؤ نکالتا ہے کوئی یوں کھڑے کھڑے آنسو تمہیں کہا نا کہ بس ہو گئے جدا ہم لوگ اکھاڑتے ہو میاں کس لیے گڑے آنسو مگر جو ضبط نے طوفاں کھڑے کیے اب کے!! تمام عمر بہایا کیے بڑے آنسو عجب گداز طبیعت ہے آپ کی جوادؔ ذرا سی بات ہوئی اور چھلک پڑے آنسو
ہم تمہیں دوسرے لوگوں سے تو اچھے پڑتے
ہم تمہیں دوسرے لوگوں سے تو اچھے پڑتے اک تو معیار بھی تھا دوسرا سستے پڑتے عشق کو سہل تو ہم بھی نہیں کہتے لیکن ہو ہی جاتا اگر اس کام کے پیچھے پڑتے وہ بھی کچھ خاص توجہ سے کہاں سنتا ہے ہم بھی ہر بات بتاتے نہیں پورے پڑتے کچھ تو ہے جو اسے ویران کیے رکھتا ہے ورنہ ایسے ہی کسی کو نہیں حلقے پڑتے ہاں مگر اب تری تصویر سے وہ ربط نہیں اک نظر دیکھ تو لیتا ہوں نکلتے پڑتے خواب میں بھی میں پہنچتا نہیں پر دیکھتا ہوں خود کو اپنی طرف آتا ہوا گرتے پڑتے
غم جہاں سے میں اکتا گیا تو کیا ہوگا
غم جہاں سے میں اکتا گیا تو کیا ہوگا خود اپنی فکر میں گھلنے لگا تو کیا ہوگا یہ ناگزیر ہے امید کی نمو کے لیے گزرتا وقت کہیں تھم گیا تو کیا ہوگا یہی بہت ہے کہ ہم کو سکوں سے جینے دے کسی کے ہاتھوں ہمارا بھلا تو کیا ہوگا یہ لوگ میری خموشی پہ مجھ سے نالاں ہیں کوئی یہ پوچھے میں گویا ہوا تو کیا ہوگا میں اس لیے بھی بہت مختلف ہوں لوگوں سے وہ سوچتے ہیں کہ ایسا ہوا تو کیا ہوگا جنوں کی راہ عجب ہے کہ پاؤں دھرنے کو زمین تک بھی نہیں نقش پا تو کیا ہوگا یہ ایک خوف بھی میری خوشی میں شامل ہے ترا بھی دھیان اگر ہٹ گیا تو کیا ہوگا جو ہو رہا ہے وہ ہوتا چلا گیا تو پھر؟ جو ہونے کو ہے وہی ہو گیا تو کیا ہوگا