جواد شیخ

جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ

12 February 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

کرے گا کیا کوئی میرے گلے سڑے آنسو

کرے گا کیا کوئی میرے گلے سڑے آنسو تو کیوں نہ سوکھ ہی جائیں پڑے پڑے آنسو جو یاد آئیں تو دل غم سے پھٹنے لگتا ہے کسی عزیز کی پلکوں میں وہ جڑے آنسو ہوا میں اپنی تہی دامنی سے شرمندہ کسی کی آنکھوں میں تھے یہ بڑے بڑے آنسو خزاں میں پتے بھی ایسے کہاں جھڑے ہوں گے ہماری آنکھوں سے جوں ہجر میں جھڑے آنسو میں اس خیال سے جاتے ہوئے اسے نہ ملا کہ روک لیں نہ کہیں سامنے کھڑے آنسو کسی نے ایک طرف مر کے بھی گلہ نہ کیا کسی نے دیکھتے ہی دیکھتے گھڑے آنسو مہارت ایسی کہ بس دیکھتے ہی رہ جاؤ نکالتا ہے کوئی یوں کھڑے کھڑے آنسو تمہیں کہا نا کہ بس ہو گئے جدا ہم لوگ اکھاڑتے ہو میاں کس لیے گڑے آنسو مگر جو ضبط نے طوفاں کھڑے کیے اب کے!! تمام عمر بہایا کیے بڑے آنسو عجب گداز طبیعت ہے آپ کی جوادؔ ذرا سی بات ہوئی اور چھلک پڑے آنسو

— جواد شیخ

ہم تمہیں دوسرے لوگوں سے تو اچھے پڑتے

ہم تمہیں دوسرے لوگوں سے تو اچھے پڑتے اک تو معیار بھی تھا دوسرا سستے پڑتے عشق کو سہل تو ہم بھی نہیں کہتے لیکن ہو ہی جاتا اگر اس کام کے پیچھے پڑتے وہ بھی کچھ خاص توجہ سے کہاں سنتا ہے ہم بھی ہر بات بتاتے نہیں پورے پڑتے کچھ تو ہے جو اسے ویران کیے رکھتا ہے ورنہ ایسے ہی کسی کو نہیں حلقے پڑتے ہاں مگر اب تری تصویر سے وہ ربط نہیں اک نظر دیکھ تو لیتا ہوں نکلتے پڑتے خواب میں بھی میں پہنچتا نہیں پر دیکھتا ہوں خود کو اپنی طرف آتا ہوا گرتے پڑتے

— جواد شیخ

غم جہاں سے میں اکتا گیا تو کیا ہوگا

غم جہاں سے میں اکتا گیا تو کیا ہوگا خود اپنی فکر میں گھلنے لگا تو کیا ہوگا یہ ناگزیر ہے امید کی نمو کے لیے گزرتا وقت کہیں تھم گیا تو کیا ہوگا یہی بہت ہے کہ ہم کو سکوں سے جینے دے کسی کے ہاتھوں ہمارا بھلا تو کیا ہوگا یہ لوگ میری خموشی پہ مجھ سے نالاں ہیں کوئی یہ پوچھے میں گویا ہوا تو کیا ہوگا میں اس لیے بھی بہت مختلف ہوں لوگوں سے وہ سوچتے ہیں کہ ایسا ہوا تو کیا ہوگا جنوں کی راہ عجب ہے کہ پاؤں دھرنے کو زمین تک بھی نہیں نقش پا تو کیا ہوگا یہ ایک خوف بھی میری خوشی میں شامل ہے ترا بھی دھیان اگر ہٹ گیا تو کیا ہوگا جو ہو رہا ہے وہ ہوتا چلا گیا تو پھر؟ جو ہونے کو ہے وہی ہو گیا تو کیا ہوگا

— جواد شیخ