سپیکرز
آبدار خان کا پیش کردہ کلام
میں چاہتا ہوں کہ دل میں ترا خیال نہ ہو
میں چاہتا ہوں کہ دل میں ترا خیال نہ ہو عجب نہیں کہ مری زندگی وبال نہ ہو میں چاہتا ہوں تو یک دم ہی چھوڑ جائے مجھے یہ ہر گھڑی ترے جانے کا احتمال نہ ہو میں چاہتا ہوں محبت پہ اب کی بار آئے زوال ایسا کہ جس کو کبھی زوال نہ ہو میں چاہتا ہوں محبت سرے سے مٹ جائے میں چاہتا ہوں اسے سوچنا محال نہ ہو میں چاہتا ہوں محبت مجھے فنا کر دے فنا بھی ایسا کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو میں چاہتا ہوں محبت مرا وہ حال کرے کہ خواب میں بھی دوبارہ کبھی مجال نہ ہو میں چاہتا ہوں کہ اتنا ہی ربط رہ جائے وہ یاد آئے مگر بھولنا محال نہ ہو میں چاہتا ہوں مری آنکھیں نوچ لی جائیں ترا خیال کسی طور پائمال نہ ہو میں چاہتا ہوں کہ میں زخم زخم ہو جاؤں اور اس طرح کہ کبھی خوف اندمال نہ ہو مری مثال ہو سب کی نگاہ میں جوادؔ میں چاہتا ہوں کسی اور کا یہ حال نہ ہو
کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے ہائے
کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے ہائے وہی منظر کہ جسے دیکھ نہ پائے ہائے کیا پتہ ساری تمنائیں دھواں ہو گئی ہوں کچھ نکلتا ہی نہیں دل سے سوائے ہائے یاد آتی ہوئی اک شکل پہ اللہ اللہ دل میں اٹھتی ہوئی ہر ٹیس پہ ہائے ہائے اس گلی جا کے بھی سجدہ نہ تمہیں یاد رہا صرف نظریں ہی جھکائے چلے آئے ہائے ساری مشکل ہی نہاں ہے مری آسانی میں کون یہ خستہ سی دیوار گرائے ہائے روز اک تازہ چلم بھر کے مجھے دے فرہاد اور پھر قیس مرے پاؤں دبائے ہائے دل کے بے کار دھڑکنے پہ کہاں خوش تھے میاں ہم تو پھولے نہ سمائے بہ صدائے ہائے جب وہ جائے تو مجھے کچھ بھی نہ بھائے جوادؔ اور جب آئے تو کچھ آئے نہ جائے ہائے