جواد شیخ

جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ

12 February 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

آبدار خان کا پیش کردہ کلام

میں چاہتا ہوں کہ دل میں ترا خیال نہ ہو

میں چاہتا ہوں کہ دل میں ترا خیال نہ ہو عجب نہیں کہ مری زندگی وبال نہ ہو میں چاہتا ہوں تو یک دم ہی چھوڑ جائے مجھے یہ ہر گھڑی ترے جانے کا احتمال نہ ہو میں چاہتا ہوں محبت پہ اب کی بار آئے زوال ایسا کہ جس کو کبھی زوال نہ ہو میں چاہتا ہوں محبت سرے سے مٹ جائے میں چاہتا ہوں اسے سوچنا محال نہ ہو میں چاہتا ہوں محبت مجھے فنا کر دے فنا بھی ایسا کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو میں چاہتا ہوں محبت مرا وہ حال کرے کہ خواب میں بھی دوبارہ کبھی مجال نہ ہو میں چاہتا ہوں کہ اتنا ہی ربط رہ جائے وہ یاد آئے مگر بھولنا محال نہ ہو میں چاہتا ہوں مری آنکھیں نوچ لی جائیں ترا خیال کسی طور پائمال نہ ہو میں چاہتا ہوں کہ میں زخم زخم ہو جاؤں اور اس طرح کہ کبھی خوف اندمال نہ ہو مری مثال ہو سب کی نگاہ میں جوادؔ میں چاہتا ہوں کسی اور کا یہ حال نہ ہو

— جواد شیخ

کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے ہائے

کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے ہائے وہی منظر کہ جسے دیکھ نہ پائے ہائے کیا پتہ ساری تمنائیں دھواں ہو گئی ہوں کچھ نکلتا ہی نہیں دل سے سوائے ہائے یاد آتی ہوئی اک شکل پہ اللہ اللہ دل میں اٹھتی ہوئی ہر ٹیس پہ ہائے ہائے اس گلی جا کے بھی سجدہ نہ تمہیں یاد رہا صرف نظریں ہی جھکائے چلے آئے ہائے ساری مشکل ہی نہاں ہے مری آسانی میں کون یہ خستہ سی دیوار گرائے ہائے روز اک تازہ چلم بھر کے مجھے دے فرہاد اور پھر قیس مرے پاؤں دبائے ہائے دل کے بے کار دھڑکنے پہ کہاں خوش تھے میاں ہم تو پھولے نہ سمائے بہ صدائے ہائے جب وہ جائے تو مجھے کچھ بھی نہ بھائے جوادؔ اور جب آئے تو کچھ آئے نہ جائے ہائے

— جواد شیخ