جواد شیخ

جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ

12 February 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں

آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں لیکن ایسا تو نہ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے مگر اس تعلق میں اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں میں کسی طرح بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا یا تو سب کچھ ہی مجھے چاہیے یا کچھ بھی نہیں کیسے جانا ہے کہاں جانا ہے کیوں جانا ہے ہم کہ چلتے چلے جاتے ہیں پتا کچھ بھی نہیں ہائے اس شہر کی رونق کے میں صدقے جاؤں ایسی بھرپور ہے جیسے کہ ہوا کچھ بھی نہیں پھر کوئی تازہ سخن دل میں جگہ کرتا ہے جب بھی لگتا ہے کہ لکھنے کو بچا کچھ بھی نہیں اب میں کیا اپنی محبت کا بھرم بھی نہ رکھوں مان لیتا ہوں کہ اس شخص میں تھا کچھ بھی نہیں میں نے دنیا سے الگ رہ کے بھی دیکھا جوادؔ ایسی منہ زور اداسی کی دوا کچھ بھی نہیں

— جواد شیخ

میں نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہو

میں نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہو لیکن اب ٹھان چکے ہو تو چلو اچھا ہو ہم تو یہ بھی نہیں کہتے کہ ہمیں کیا مطلب اُس کو ہوتا ہے کوئی غم تو بھلے ہوتا ہو تم سے ناراض تو میں اور کسی بات پہ ہوں تم مگر اور کسی وجہ سے شرمندہ ہو اب کہیں جا کے یہ معلوم ہوا ہے مجھ کو ٹھیک رہ جاتا ہے جو شخص ترے جیسا ہو ایسے حالات میں ہو بھی کوئی حسّاس تو کیا اور بے حس بھی اگر ہو تو کوئی کتنا ہو جا کے پوچھو تو سہی اُسکی خموشی کا سبب کیا خبر دل میں کوئی بات لیے بیٹھا ہو اور ہی طرح کے رستے کی تمنّا ہے مجھے جو کسی اور ہی منزل کی طرف جاتا ہو تاکہ تُو سمجھے کہ مَردوں کے بھی دُکھ ہوتے ہیں میں نے چاہا بھی یہی تھا کہ ترا بیٹا ہو

— جواد شیخ