سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں
آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں لیکن ایسا تو نہ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے مگر اس تعلق میں اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں میں کسی طرح بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا یا تو سب کچھ ہی مجھے چاہیے یا کچھ بھی نہیں کیسے جانا ہے کہاں جانا ہے کیوں جانا ہے ہم کہ چلتے چلے جاتے ہیں پتا کچھ بھی نہیں ہائے اس شہر کی رونق کے میں صدقے جاؤں ایسی بھرپور ہے جیسے کہ ہوا کچھ بھی نہیں پھر کوئی تازہ سخن دل میں جگہ کرتا ہے جب بھی لگتا ہے کہ لکھنے کو بچا کچھ بھی نہیں اب میں کیا اپنی محبت کا بھرم بھی نہ رکھوں مان لیتا ہوں کہ اس شخص میں تھا کچھ بھی نہیں میں نے دنیا سے الگ رہ کے بھی دیکھا جوادؔ ایسی منہ زور اداسی کی دوا کچھ بھی نہیں
میں نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہو
میں نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہو لیکن اب ٹھان چکے ہو تو چلو اچھا ہو ہم تو یہ بھی نہیں کہتے کہ ہمیں کیا مطلب اُس کو ہوتا ہے کوئی غم تو بھلے ہوتا ہو تم سے ناراض تو میں اور کسی بات پہ ہوں تم مگر اور کسی وجہ سے شرمندہ ہو اب کہیں جا کے یہ معلوم ہوا ہے مجھ کو ٹھیک رہ جاتا ہے جو شخص ترے جیسا ہو ایسے حالات میں ہو بھی کوئی حسّاس تو کیا اور بے حس بھی اگر ہو تو کوئی کتنا ہو جا کے پوچھو تو سہی اُسکی خموشی کا سبب کیا خبر دل میں کوئی بات لیے بیٹھا ہو اور ہی طرح کے رستے کی تمنّا ہے مجھے جو کسی اور ہی منزل کی طرف جاتا ہو تاکہ تُو سمجھے کہ مَردوں کے بھی دُکھ ہوتے ہیں میں نے چاہا بھی یہی تھا کہ ترا بیٹا ہو