جواد شیخ

جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ

12 February 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

آمنہ نعیم کا پیش کردہ کلام

ہزار صحرا تھے رستے میں یار کیا کرتا

ہزار صحرا تھے رستے میں یار کیا کرتا جو چل پڑا تھا تو فکر غبار کیا کرتا کبھی جو ٹھیک سے خود کو سمجھ نہیں پایا وہ دوسروں پہ بھلا اعتبار کیا کرتا چلو یہ مانا کہ اظہار بھی ضروری ہے سو ایک بار کیا، بار بار کیا کرتا اسی لیے تو در آئنہ بھی وا نہ کیا جو سو رہے ہیں انہیں ہوشیار کیا کرتا وہ اپنے خواب کی تفسیر خود نہ کر پایا جہان بھر پہ اسے آشکار کیا کرتا اگر وہ کرنے پہ آتا تو کچھ بھی کر جاتا یہ سوچ مت کہ اکیلا شرار کیا کرتا سوائے یہ کہ وہ اپنے بھی زخم تازہ کرے مرے غموں پہ مرا غم گسار کیا کرتا بس ایک پھول کی خاطر بہار مانگی تھی رتوں سے ورنہ میں قول و قرار کیا کرتا مرا لہو ہی کہانی کا رنگ تھا جوادؔ کہانی کار اسے رنگ دار کیا کرتا

— جواد شیخ