جواد شیخ

جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ

12 February 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری

نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری کہ تو کرتا رہے ناحق طرف داری ہماری اندھیرے میں ہمیں رکھنا تو خاموشی سے رکھنا کہیں بیدار ہو جائے نہ بیداری ہماری مگر اچھا تو یہ ہوتا کہ ہم اک ساتھ رہتے بھری رہتی ترے کپڑوں سے الماری ہماری ہم آسانی سے کھل جائیں مگر اک مسئلہ ہے تمہاری سطح سے اوپر ہے تہہ داری ہماری ہمیں جیتے چلے جانے پہ مائل کرنے والی یہاں کوئی نہیں لیکن سخن کاری ہماری کہانی کار نے کردار ہی ایسا دیا ہے اداکاری نہیں لگتی اداکاری ہماری

— جواد شیخ

ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھے

ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھے ہم بھی کیا سادہ و پیچیدہ ہوا کرتے تھے عکس بندی کی ہوس ان میں کہاں سے آئی مہرباں ہاتھ تو نادیدہ ہوا کرتے تھے اب ہمیں دیکھ کے لگتا تو نہیں ہے لیکن ہم کبھی اس کے پسندیدہ ہوا کرتے تھے تو نے کس موج میں یہ حال کیا ہے اپنا لوگ کیا کیا ترے گرویدہ ہوا کرتے تھے تجھ سے پہلے بھی مرے راز تھے اک شخص کے پاس فرق اتنا ہے کہ پوشیدہ ہوا کرتے تھے صاحب الرائے کہاں اتنے بہم تھے پہلے یہ چنیدہ تو بہت چیدہ ہوا کرتے تھے ان دنوں اتنے وسائل نہیں ہوتے تھے مگر پھر بھی کچھ لوگ جہاں دیدہ ہوا کرتے تھے

— جواد شیخ