سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری
نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری کہ تو کرتا رہے ناحق طرف داری ہماری اندھیرے میں ہمیں رکھنا تو خاموشی سے رکھنا کہیں بیدار ہو جائے نہ بیداری ہماری مگر اچھا تو یہ ہوتا کہ ہم اک ساتھ رہتے بھری رہتی ترے کپڑوں سے الماری ہماری ہم آسانی سے کھل جائیں مگر اک مسئلہ ہے تمہاری سطح سے اوپر ہے تہہ داری ہماری ہمیں جیتے چلے جانے پہ مائل کرنے والی یہاں کوئی نہیں لیکن سخن کاری ہماری کہانی کار نے کردار ہی ایسا دیا ہے اداکاری نہیں لگتی اداکاری ہماری
ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھے
ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھے ہم بھی کیا سادہ و پیچیدہ ہوا کرتے تھے عکس بندی کی ہوس ان میں کہاں سے آئی مہرباں ہاتھ تو نادیدہ ہوا کرتے تھے اب ہمیں دیکھ کے لگتا تو نہیں ہے لیکن ہم کبھی اس کے پسندیدہ ہوا کرتے تھے تو نے کس موج میں یہ حال کیا ہے اپنا لوگ کیا کیا ترے گرویدہ ہوا کرتے تھے تجھ سے پہلے بھی مرے راز تھے اک شخص کے پاس فرق اتنا ہے کہ پوشیدہ ہوا کرتے تھے صاحب الرائے کہاں اتنے بہم تھے پہلے یہ چنیدہ تو بہت چیدہ ہوا کرتے تھے ان دنوں اتنے وسائل نہیں ہوتے تھے مگر پھر بھی کچھ لوگ جہاں دیدہ ہوا کرتے تھے