سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے
کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے پھر سارے کا سارا کیسے ہو سکتا ہے تجھ سے جب مل کر بھی اداسی کم نہیں ہوتی تیرے بغیر گزارا کیسے ہو سکتا ہے کیسے کسی کی یاد ہمیں زندہ رکھتی ہے ایک خیال سہارا کیسے ہو سکتا ہے یار ہوا سے کیسے آگ بھڑک اٹھتی ہے لفظ کوئی انگارا کیسے ہو سکتا ہے کون زمانے بھر کی ٹھوکریں کھا کر خوش ہے درد کسی کو پیارا کیسے ہو سکتا ہے ہم بھی کیسے ایک ہی شخص کے ہو کر رہ جائیں وہ بھی صرف ہمارا کیسے ہو سکتا ہے کیسے ہو سکتا ہے جو کچھ بھی میں چاہوں بول نا میرے یارا کیسے ہو سکتا ہے
ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی
ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی دیکھ بھی لوں تو مسلسل نہیں دیکھی جاتی دیکھی جاتی ہے محبت میں ہر اک جنبش دل صرف سانسوں کی ریہرسل نہیں دیکھی جاتی اک تو ویسے بڑی تاریک ہے خواہش نگری پھر طویل اتنی کہ پیدل نہیں دیکھی جاتی ایسا کچھ ہے بھی نہیں جس سے تجھے بہلاؤں یہ اداسی بھی مسلسل نہیں دیکھی جاتی سامنے اک وہی صورت نہیں رہتی اکثر جو کبھی آنکھ سے اوجھل نہیں دیکھی جاتی میں نے اک عمر سے بٹوے میں سنبھالی ہوئی ہے وہی تصویر جو اک پل نہیں دیکھی جاتی اب مرا دھیان کہیں اور چلا جاتا ہے اب کوئی فلم مکمل نہیں دیکھی جاتی اک مقام ایسا بھی آتا ہے سفر میں جوادؔ سامنے ہو بھی تو دلدل نہیں دیکھی جاتی