سپیکرز
حمایت اللہ کا پیش کردہ کلام
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی اہل کتاب نے مگر کیا ترا حال کر دیا ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر بانوئے شب کے ہاتھ میں رکھنا سنبھال کر دیا ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا میرے لبوں پہ مہر تھی پر میرے شیشہ رو نے تو شہر کے شہر کو مرا واقف حال کر دیا چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آ سکے وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کر دیا مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا منصب دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کر دیا
تخت ہے اور کہانی ہے وہی
تخت ہے اور کہانی ہے وہی اور سازش بھی پرانی ہے وہی قاضی شہر نے قبلہ بدلہ لیکن خطبے میں روانی ہے وہی خیمہ کش اب کے ذرا دیکھ کے ہو جس پہ پہرہ تھا ، یہ پانی ہے وہی صلح کو فسخ کیا دل میں مگر اب بھی پیغام زبانی ہے وہی آج بھی چہرہ ء خورشید ہے زرد آج بھی شام سہانی ہے وہی بدلے جاتے ہیں یہاں روز طبیب اور زخموں کی کہانی ہے وہی حجلہ غم یونہی آراستہ ہے دل کی پوشاک شہانی ہے وہی شہر کا شہر یہاں ڈوب گیا اور دریا کی روانی ہے وہی