پروین شاکر

کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)

26 December 2025

21سپیکرز
293لسنرز

سپیکرز

حمایت اللہ کا پیش کردہ کلام

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی اہل کتاب نے مگر کیا ترا حال کر دیا ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر بانوئے شب کے ہاتھ میں رکھنا سنبھال کر دیا ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا میرے لبوں پہ مہر تھی پر میرے شیشہ رو نے تو شہر کے شہر کو مرا واقف حال کر دیا چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آ سکے وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کر دیا مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا منصب دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کر دیا

— پروین شاکر

تخت ہے اور کہانی ہے وہی

تخت ہے اور کہانی ہے وہی اور سازش بھی پرانی ہے وہی قاضی شہر نے قبلہ بدلہ لیکن خطبے میں روانی ہے وہی خیمہ کش اب کے ذرا دیکھ کے ہو جس پہ پہرہ تھا ، یہ پانی ہے وہی صلح کو فسخ کیا دل میں مگر اب بھی پیغام زبانی ہے وہی آج بھی چہرہ ء خورشید ہے زرد آج بھی شام سہانی ہے وہی بدلے جاتے ہیں یہاں روز طبیب اور زخموں کی کہانی ہے وہی حجلہ غم یونہی آراستہ ہے دل کی پوشاک شہانی ہے وہی شہر کا شہر یہاں ڈوب گیا اور دریا کی روانی ہے وہی​

— پروین شاکر