سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں
اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں شام بھی ہو گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری بھولنے والے میں کب تک ترا رستا دیکھوں ایک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں آج میں خود کو تری یاد میں تنہا دیکھوں کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کر اتنے غیروں میں وہی ہاتھ جو اپنا دیکھوں تو مرا کچھ نہیں لگتا ہے مگر جان حیات جانے کیوں تیرے لیے دل کو دھڑکنا دیکھوں بند کر کے مری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسے بوجھے جانے کا میں ہر روز تماشا دیکھوں سب ضدیں اس کی میں پوری کروں ہر بات سنوں ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں مجھ پہ چھا جائے وہ برسات کی خوشبو کی طرح انگ انگ اپنا اسی رت میں مہکتا دیکھوں پھول کی طرح مرے جسم کا ہر لب کھل جائے پنکھڑی پنکھڑی ان ہونٹوں کا سایا دیکھوں میں نے جس لمحے کو پوجا ہے اسے بس اک بار خواب بن کر تری آنکھوں میں اترتا دیکھوں تو مری طرح سے یکتا ہے مگر میرے حبیب جی میں آتا ہے کوئی اور بھی تجھ سا دیکھوں ٹوٹ جائیں کہ پگھل جائیں مرے کچے گھڑے تجھ کو میں دیکھوں کہ یہ آگ کا دریا دیکھوں