پروین شاکر

کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)

26 December 2025

21سپیکرز
293لسنرز

سپیکرز

زین چوہدری کا پیش کردہ کلام

جب کبھی خوبیٔ قسمت سے تجھے دیکھتے ہیں

جب کبھی خوبیٔ قسمت سے تجھے دیکھتے ہیں آئنہ خانے کی حیرت سے تجھے دیکھتے ہیں وہ جو پامال زمانہ ہیں مرے تخت نشیں دیکھ تو کیسی محبت سے تجھے دیکھتے ہیں کاسۂ دید میں بس ایک جھلک کا سکہ ہم فقیروں کی قناعت سے تجھے دیکھتے ہیں تیرے جانے کا خیال آتا ہے گھر سے جس دم در و دیوار کی حسرت سے تجھے دیکھتے ہیں تیرے کوچے میں چلے جاتے ہیں قاصد بن کر اور اکثر اسی صورت سے تجھے دیکھتے ہیں کہہ گئی باد صبا آج ترے کان میں کیا پھول کس درجہ شرارت سے تجھے دیکھتے ہیں تجھ کو کیا علم تجھے ہارنے والے کچھ لوگ کس قدر سخت ندامت سے تجھے دیکھتے ہیں

— پروین شاکر

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیں شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی گاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواب اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی اس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا موج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی

— پروین شاکر

اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہنا

اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہنا جاگ جاگ کر ان راتوں میں شعر کی آگ جلاتے رہنا اپنے گھروں سے دور بنوں میں پھرتے ہوئے آوارہ لوگو کبھی کبھی جب وقت ملے تو اپنے گھر بھی جاتے رہنا رات کے دشت میں پھول کھلے ہیں بھولی بسری یادوں کے غم کی تیز شراب سے ان کے تیکھے نقش مٹاتے رہنا خوشبو کی دیوار کے پیچھے کیسے کیسے رنگ جمے ہیں جب تک دن کا سورج آئے اس کا کھوج لگاتے رہنا تم بھی منیرؔ اب ان گلیوں سے اپنے آپ کو دور ہی رکھنا اچھا ہے جھوٹے لوگوں سے اپنا آپ بچاتے رہنا

— منیرنیازی