سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
جو پھسلا میرے ہاتھ سے وہ پَل نہیں ملا
جو پھسلا میرے ہاتھ سے وہ پَل نہیں ملا میرا گزرا ہوا کل مجھے واپس نہیں ملا لوگوں سے بھری دنیا میں ڈھونڈا بہت مگر فرشتے ملے مجھے بہت لیکن انساں نہیں ملا سوچا کسی کے دل میں اب گھر بنا لوں میں لیکن کسی کا دل مجھے ثابت نہیں ملا ایسا نہیں ہے کہ مجھے منزل نہیں ملی منزل ملی مگر ،،، کبھی راستا نہیں ملا برسوں سے میں نے ڈھونڈا لیکن مجھے اس شہر میں کوئی بھی تیرے جیسا نہیں ملا.!!!
کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیے
کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیے پانی کو اب تو سر سے گزر جانا چاہیے نشتر بدست شہر سے چارہ گری کی لو اے زخم بے کسی تجھے بھر جانا چاہیے ہر بار ایڑیوں پہ گرا ہے مرا لہو مقتل میں اب بہ طرز دگر جانا چاہیے کیا چل سکیں گے جن کا فقط مسئلہ یہ ہے جانے سے پہلے رخت سفر جانا چاہیے سارا جوار بھاٹا مرے دل میں ہے مگر الزام یہ بھی چاند کے سر جانا چاہیے جب بھی گئے عذاب در و بام تھا وہی آخر کو کتنی دیر سے گھر جانا چاہیے تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہیے
رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوا
رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوا اتنا میں چپ ہوا کہ تماشا نہیں ہوا ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفر نہیں رستہ ہے اس طرح کا جو دیکھا نہیں ہوا مشکل ہوا ہے رہنا ہمیں اس دیار میں برسوں یہاں رہے ہیں یہ اپنا نہیں ہوا وہ کام شاہ شہر سے یا شہر سے ہوا جو کام بھی ہوا ہے وہ اچھا نہیں ہوا ملنا تھا ایک بار اسے پھر کہیں منیرؔ ایسا میں چاہتا تھا پر ایسا نہیں ہوا
محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئے
محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئے دیکھتے ہی دیکھتے ہم کیا سے کیا ہوتے گئے نا شناسی دہر کی تنہا ہمیں کرتی گئی ہوتے ہوتے ہم زمانے سے جدا ہوتے گئے منتظر جیسے تھے در شہر فراق آثار کے اک ذرا دستک ہوئی در دم میں وا ہوتے گئے حرف پردہ پوش تھے اظہار دل کے باب میں حرف جتنے شہر میں تھے حرف لا ہوتے گئے وقت کس تیزی سے گزرا روزمرہ میں منیرؔ آج کل ہوتا گیا اور دن ہوا ہوتے گئے