پروین شاکر

کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)

26 December 2025

21سپیکرز
293لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے چاند کے ہم راہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبر شہر نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے ہم نے خود سے بھی چھپایا اور سارے شہر کو تیرے جانے کی خبر دیوار و در کرتے رہے وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے آج آیا ہے ہمیں بھی ان اڑانوں کا خیال جن کو تیرے زعم میں بے بال و پر کرتے رہے

— پروین شاکر

سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے

سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے دیکھوں تو نظر بدل رہا ہے کیوں بات زباں سے کہہ کے کھوئی دل آج بھی ہاتھ مَل رہا ہے راتوں کے سفر میں وہم سا تھا یہ میں ہوں کہ چاند چل رہا ہے ہم بھی ترے بعد جی رہے ہیں اور تُو بھی کہیں بہل رہا ہے سمجھا کے ابھی گئی ہیں سکھیاں اور دل ہے کہ پھر مچل رہا ہے ہم ہی بُرے ہو گئے __کہ تیرا معیارِ وفا بدل رہا ہے پہلی سی وہ روشنی نہیں اب کیا درد کا چاند ڈھل رہا ہے

— پروین شاکر