سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے
جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے چاند کے ہم راہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبر شہر نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے ہم نے خود سے بھی چھپایا اور سارے شہر کو تیرے جانے کی خبر دیوار و در کرتے رہے وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے آج آیا ہے ہمیں بھی ان اڑانوں کا خیال جن کو تیرے زعم میں بے بال و پر کرتے رہے
سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے
سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے دیکھوں تو نظر بدل رہا ہے کیوں بات زباں سے کہہ کے کھوئی دل آج بھی ہاتھ مَل رہا ہے راتوں کے سفر میں وہم سا تھا یہ میں ہوں کہ چاند چل رہا ہے ہم بھی ترے بعد جی رہے ہیں اور تُو بھی کہیں بہل رہا ہے سمجھا کے ابھی گئی ہیں سکھیاں اور دل ہے کہ پھر مچل رہا ہے ہم ہی بُرے ہو گئے __کہ تیرا معیارِ وفا بدل رہا ہے پہلی سی وہ روشنی نہیں اب کیا درد کا چاند ڈھل رہا ہے