پروین شاکر

کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)

26 December 2025

21سپیکرز
293لسنرز

سپیکرز

سجاد رضا کا پیش کردہ کلام

کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا

کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا زخم ہی یہ مجھے لگتا نہیں بھرنے والا زندگی سے کسی سمجھوتے کے با وصف اب تک یاد آتا ہے کوئی مارنے مرنے والا اس کو بھی ہم ترے کوچے میں گزار آئے ہیں زندگی میں وہ جو لمحہ تھا سنورنے والا اس کا انداز سخن سب سے جدا تھا شاید بات لگتی ہوئی لہجہ وہ مکرنے والا شام ہونے کو ہے اور آنکھ میں اک خواب نہیں کوئی اس گھر میں نہیں روشنی کرنے والا دسترس میں ہیں عناصر کے ارادے کس کے سو بکھر کے ہی رہا کوئی بکھرنے والا اسی امید پہ ہر شام بجھائے ہیں چراغ ایک تارا ہے سر بام ابھرنے والا

— پروین شاکر

رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی

رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی سائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھی خیمے نہ کوئی میرے مسافر کے جلائے زخمی تھا بہت پاؤں مسافت بھی بہت تھی سب دوست مرے منتظر پردۂ شب تھے دن میں تو سفر کرنے میں دقت بھی بہت تھی بارش کی دعاؤں میں نمی آنکھ کی مل جائے جذبے کی کبھی اتنی رفاقت بھی بہت تھی کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئے اور کچھ مری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی پھولوں کا بکھرنا تو مقدر ہی تھا لیکن کچھ اس میں ہواؤں کی سیاست بھی بہت تھی وہ بھی سر مقتل ہے کہ سچ جس کا تھا شاہد اور واقف احوال عدالت بھی بہت تھی اس ترک رفاقت پہ پریشاں تو ہوں لیکن اب تک کے ترے ساتھ پہ حیرت بھی بہت تھی خوش آئے تجھے شہر منافق کی امیری ہم لوگوں کو سچ کہنے کی عادت بھی بہت تھی

— پروین شاکر

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔۔

— منیرنیازی