پروین شاکر

کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)

26 December 2025

21سپیکرز
293لسنرز

سپیکرز

روح من کا پیش کردہ کلام

خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوں

خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوں تری آواز کا چہرہ میں چھو کر دیکھ سکتی ہوں ابھی تیرے لبوں پہ ذکر فصل گل نہیں آیا مگر اک پھول کھلتے اپنے اندر دیکھ سکتی ہوں مجھے تیری محبت نے عجب اک روشنی بخشی میں اس دنیا کو اب پہلے سے بہتر دیکھ سکتی ہوں کنارہ ڈھونڈنے کی چاہ تک مجھ میں نہیں ہوگی میں اپنے گھر میں اک ایسا سمندر دیکھ سکتی ہوں وصال و ہجر اب یکساں ہیں وہ منزل ہے چاہت میں میں آنکھیں بند کر کے تجھ کو اکثر دیکھ سکتی ہوں ابھی تیرے سوا دنیا بھی ہے موجود اس دل میں میں خود کو کس طرح تیرے برابر دیکھ سکتی ہوں

— پروین شاکر

ہوا جام صحت تجویز کرتی ہے

مجھے معلوم تھا یہ دن بھی دکھ کی کوکھ سے پھوٹا ہے میری ماتمی چادر نہیں تبدیل ہوگی آج کے دن بھی جو راکھ اڑتی تھی خوابوں کی بدن میں یوں ہی آشفتہ رہے گی اور اداسی کی یہی صورت رہے گی میں اپنے سوگ میں ماتم کناں یوں سر بہ زانو رات تک بیٹھی رہوں گی اور مرے خوابوں کا پرسہ آج بھی کوئی نہیں دے گا مگر یہ کون ہے جو یوں مجھے باہر بلاتا ہے بڑی نرمی سے کہتا ہے کہ اپنے حجرہ غم سے نکل کر باغ میں آؤ ذرا باہر تو دیکھو دور تک سبزہ بچھا ہے اور ہری شاخوں پہ نارنجی شگوفے مسکراتے ہیں ملائم سبز پتوں پر پڑی شبنم سنہری دھوپ میں ہیرے کی صورت جگمگاتی ہے درختوں میں چھپی ندی بہت دھیمے سروں میں گنگناتی ہے چمکتے زرد پھولوں سے لدی ننھی پہاڑی کے عقب میں نقرئی چشمہ خوشی سے کھلکھلاتا ہے پرند خوش گلو شاخ شگفتہ پر چہکتا ہے گھنے جنگل میں بارش کا غبار سبز سطح شیشۂ دل پر ملائم انگلیوں سے مرحبا کے لفظ لکھتا ہے کوئی آتا ہے آ کر چادر غم کو بڑی آہستگی سے میرے شانوں سے ہٹا کر سات رنگوں کا دوپٹہ کھول کر مجھ کو اڑاتا ہے میں کھل کر سانس لیتی ہوں مرے اندر کوئی پیروں میں گھنگھرو باندھتا ہے رقص کا آغاز کرتا ہے مرے کانوں کے آویزوں کو یہ کس نے چھوا جس سے لویں پھر سے گلابی ہو گئی ہیں کوئی سرگوشیوں میں پھر سے میرا نام لیتا ہے فضا کی نغمگی آواز دیتی ہے ہوا جام صحت تجویز کرتی ہے

— پروین شاکر