پروین شاکر

کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)

26 December 2025

21سپیکرز
293لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا بجتے رہیں ہواؤں سے در تم کو اس سے کیا تم موج موج مثل صبا گھومتے رہو کٹ جائیں میری سوچ کے پر تم کو اس سے کیا اوروں کا ہاتھ تھامو انہیں راستہ دکھاؤ میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر تم کو اس سے کیا ابر گریز پا کو برسنے سے کیا غرض سیپی میں بن نہ پائے گہر تم کو اس سے کیا لے جائیں مجھ کو مال غنیمت کے ساتھ عدو تم نے تو ڈال دی ہے سپر تم کو اس سے کیا تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا لیے تنہا کٹے کسی کا سفر تم کو اس سے کیا

— پروین شاکر

یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہوجاؤ

یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہوجاؤ۔۔ وہیں سے لوٹ جانا تم جہاں بےزار ہوجاؤ۔۔ ملاقاتوں میں وقفہ اس لئے ہونا ضروری ہے، کہ تم اک دن جدائی کے لئے تیار ہوجاؤ۔۔ بہت جلد سمجھ میں آنے لگتے ہو زمانے کو، بہت آسان ہو تھوڑے بہت دشوار ہوجاؤ۔۔ بلا کی دھوپ سے آئی ہوں میرا حال تو دیکھو، بس اب ایسا کرو تم سایۂ دیوار ہوجاؤ۔۔ ابھی پڑھنے کے دن ہیں لکھ بھی لینا حالِ دل اپنا، مگر لکھنا تبھی جب لائقِ اظہار ہوجاؤ۔۔

— پروین شاکر

خیال یکتا میں خواب اتنے

خیال یکتا میں خواب اتنے سوال تنہا جواب اتنے کبھی نہ خوبی کا دھیان آیا ہوئے جہاں میں خراب اتنے حساب دینا پڑا ہمیں بھی کہ ہم جو تھے بے حساب اتنے بس اک نظر میں ہزار باتیں پھر اس سے آگے حجاب اتنے مہک اٹھے رنگ سرخ جیسے کھلے چمن میں گلاب اتنے منیرؔ آئے کہاں سے دل میں نئے نئے اضطراب اتنے

— منیرنیازی