سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا بجتے رہیں ہواؤں سے در تم کو اس سے کیا تم موج موج مثل صبا گھومتے رہو کٹ جائیں میری سوچ کے پر تم کو اس سے کیا اوروں کا ہاتھ تھامو انہیں راستہ دکھاؤ میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر تم کو اس سے کیا ابر گریز پا کو برسنے سے کیا غرض سیپی میں بن نہ پائے گہر تم کو اس سے کیا لے جائیں مجھ کو مال غنیمت کے ساتھ عدو تم نے تو ڈال دی ہے سپر تم کو اس سے کیا تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا لیے تنہا کٹے کسی کا سفر تم کو اس سے کیا
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہوجاؤ
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہوجاؤ۔۔ وہیں سے لوٹ جانا تم جہاں بےزار ہوجاؤ۔۔ ملاقاتوں میں وقفہ اس لئے ہونا ضروری ہے، کہ تم اک دن جدائی کے لئے تیار ہوجاؤ۔۔ بہت جلد سمجھ میں آنے لگتے ہو زمانے کو، بہت آسان ہو تھوڑے بہت دشوار ہوجاؤ۔۔ بلا کی دھوپ سے آئی ہوں میرا حال تو دیکھو، بس اب ایسا کرو تم سایۂ دیوار ہوجاؤ۔۔ ابھی پڑھنے کے دن ہیں لکھ بھی لینا حالِ دل اپنا، مگر لکھنا تبھی جب لائقِ اظہار ہوجاؤ۔۔
خیال یکتا میں خواب اتنے
خیال یکتا میں خواب اتنے سوال تنہا جواب اتنے کبھی نہ خوبی کا دھیان آیا ہوئے جہاں میں خراب اتنے حساب دینا پڑا ہمیں بھی کہ ہم جو تھے بے حساب اتنے بس اک نظر میں ہزار باتیں پھر اس سے آگے حجاب اتنے مہک اٹھے رنگ سرخ جیسے کھلے چمن میں گلاب اتنے منیرؔ آئے کہاں سے دل میں نئے نئے اضطراب اتنے