سپیکرز
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے
دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے تری جدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے ترے بدلنے کے با وصف تجھ کو چاہا ہے یہ اعتراف بھی شامل مرے گناہ میں ہے عذاب دے گا تو پھر مجھ کو خواب بھی دے گا میں مطمئن ہوں مرا دل تری پناہ میں ہے بکھر چکا ہے مگر مسکرا کے ملتا ہے وہ رکھ رکھاؤ ابھی میرے کج کلاہ میں ہے جسے بہار کے مہمان خالی چھوڑ گئے وہ اک مکان ابھی تک مکیں کی چاہ میں ہے یہی وہ دن تھے جب اک دوسرے کو پایا تھا ہماری سال گرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے میں بچ بھی جاؤں تو تنہائی مار ڈالے گی مرے قبیلے کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے
تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا
تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا ہوا کے پاس برہنہ کمان چھوڑ گیا رفاقتوں کا مری اس کو دھیان کتنا تھا زمین لے لی مگر آسمان چھوڑ گیا عجیب شخص تھا بارش کا رنگ دیکھ کے بھی کھلے دریچے پہ اک پھول دان چھوڑ گیا جو بادلوں سے بھی مجھ کو چھپائے رکھتا تھا بڑھی ہے دھوپ تو بے سائبان چھوڑ گیا نکل گیا کہیں ان دیکھے پانیوں کی طرف زمیں کے نام کھلا بادبان چھوڑ گیا عقاب کو تھی غرض فاختہ پکڑنے سے جو گر گئی تو یوں ہی نیم جان چھوڑ گیا نہ جانے کون سا آسیب دل میں بستا ہے کہ جو بھی ٹھہرا وہ آخر مکان چھوڑ گیا عقب میں گہرا سمندر ہے سامنے جنگل کس انتہا پہ مرا مہربان چھوڑ گیا
زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا
اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا
اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا یہ تماشا تھا یا کوئی خواب دیوانے کا تھا سارے کرداروں میں بے رشتہ تعلق تھا کوئی ان کی بے ہوشی میں غم سا ہوش آ جانے کا تھا عشق کیا ہم نے کیا آوارگی کے عہد میں اک جتن بے چینیوں سے دل کو بہلانے کا تھا خواہشیں ہیں گھر سے باہر دور جانے کی بہت شوق لیکن دل میں واپس لوٹ کر آنے کا تھا لے گیا دل کو جو اس محفل کی شب میں اے منیرؔ اس حسیں کا بزم میں انداز شرمانے کا تھا