سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
سحربیاں
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آمنہ ملک
ابو لقمان
امل خان
امید صبح
انتظار حسین
ایم سعید
حمایت اللہ
ڈاکٹر شعیب
رابعہ
راجا اکرام قمر
روح من
زاہدحسین
زین چوہدری
سجاد رضا
شعیب
شہزاد
کریسنٹ
مرزا جواد
ملک
میاں عمر
نایاب
ڈاکٹر شعیب کا پیش کردہ کلام
بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے
بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے خواب میں بھی تجھے بھولوں تو روا رکھ مجھ سے وہ رویہ جو ہوا کا خس و خاشاک سے ہے بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے اور مری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے اتنی روشن ہے تری صبح کہ ہوتا ہے گماں یہ اجالا تو کسی دیدۂ نمناک سے ہے ہاتھ تو کاٹ دیے کوزہ گروں کے ہم نے معجزے کی وہی امید مگر چاک سے ہے